خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 128
خطبات مسرور جلد 11 128 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء نہیں دکھا سکتا۔وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں مگر اُس کا باپ لڑکی کی شکل مجھے نہیں دکھاتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ غلطی کرتا ہے، اُسے لڑکی دیکھا دینی چاہئے۔وہ پھر اُس کے پاس پہنچا اور کہنے لگا تم نے انکار کیا تھا اور کہا تھا میں لڑکی نہیں دکھاتا۔میں نے اس بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہے اور آپ نے فرمایا ہے کہ نکاح کے موقع پر لڑکی کو دیکھ لینا جائز ہے۔باپ کہنے لگا جائز ہوگا مگر میں تمہیں نہیں دکھاتا۔(اپنی غیرت دکھائی اُس نے۔) تم کسی اور جگہ رشتہ کرلو لڑکی اندر بیٹھی ہوئی یہ باتیں سن رہی تھی۔جو نبی اُس نے یہ بات سنی وہ فوراً ننگے منہ باہر نکل آئی اور کہنے لگی کہ باپ ! آپ کیا کہتے ہیں۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں کہ لڑکی کو نکاح سے قبل دیکھ لینا جائز ہے تو آپ کو اس سے کیا انکار ہوسکتا ہے۔پھر وہ اس نوجوان سے کہنے لگی۔لو میں تمہارے سامنے کھڑی ہوں مجھے دیکھ لو۔اُس نوجوان نے کہا مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں، مجھے ایسی ہی لڑکی پسند ہے جو خدا اور اُس کے رسول کی ایسی فرمانبردار ہے۔تو دیکھو کس طرح اہلِ عرب کے قلوب کو بظاہر دنیاوی عزتیں قربان کرنے کیلئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کر دیا کہ اُن کے مذ نظر سوائے اس کے اور کوئی بات نہ رہی کہ خدا اور اُس کے رسول کا کیا حکم ہے۔تو قلوب کو دنیا کی کوئی حکومت نہیں بدل سکتی۔قلوب کو اللہ تعالیٰ ہی بدلتا ہے۔بزدل بہادر بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت۔اور بہادر بزدل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت کنجوس سخی بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور سخی کنجوس بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت۔جاہل عالم بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت اور عالم جاہل بن جاتے ہیں خدا کے حکم کے ماتحت۔جب خدا کسی قوم کے متعلق حکم دیتا ہے کہ اس کو مٹاڈالو تو اس کے عالم جاہل ہو جاتے ہیں، اُس کے بہادر بزدل ہو جاتے ہیں، اُس کے سخی کنجوس ہو جاتے ہیں اور اُس کے طاقتور کمزور ہو جاتے ہیں۔مگر جب خدا کسی قوم کے متعلق فیصلہ کرتا ہے کہ اُسے بڑھایا جائے تو اُس کے کمزور بہادر بن جاتے ہیں، اُس کے جاہل عالم بن جاتے ہیں، اُس کے بخیل سخی بن جاتے ہیں اور اُس کے بیوقوف عقلمند بن جاتے ہیں۔ہم نے اپنی زندگیوں میں اس قسم کی کئی مثالیں دیکھی ہیں۔فرماتے ہیں کہ احمدیوں میں بھی ہم نے دیکھا ہے کہ ایک شخص اخلاص کے ساتھ احمدی ہوتا ہے، وہ ان پڑھ اور جاہل ہوتا ہے مگر احمد ی ہوتے ہی اُس کی زبان اس طرح کھل جاتی ہے کہ بڑے بڑے مولوی اُس کے ساتھ بات کرنے سے گھبرانے اور کترانے لگ جاتے ہیں۔مگر ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض علم والے آدمی ہماری جماعت میں داخل ہوتے ہیں مگر چونکہ اُن کے دلوں میں احمدیت کے متعلق