خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 129

خطبات مسرور جلد 11 129 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء اخلاص نہیں ہوتا، اس لئے وہ اسی طرح جاہل رہتے ہیں جس طرح غیر احمدی ہونے کی حالت میں علم دین سے جاہل ہوا کرتے تھے۔جس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ہمارا علم ذاتی نہیں بلکہ خدا کا دیا ہوا علم ہے۔ہماری بہادری اپنی نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی بہادری ہے۔ہماری قربانیاں اپنی نہیں بلکہ خدا کی دی ہوئی توفیق کا نتیجہ ہیں۔اگر وہ خدا کی دی ہوئی بہادری نہ ہوتی ، اگر وہ خدا کا دیا ہوا علم نہ ہوتا، اگر وہ خدا کی دی ہوئی جرات نہ ہوتی تو اس کا اخلاص سے کیا تعلق ہوتا۔پھر تو عادات سے اور محنت سے اور ذاتی جد و جہد اور کوشش سے ہی اُس کا تعلق ہوتا۔حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو دنیاوی لحاظ سے ان باتوں سے بالکل نابلد ہوتے ہیں مگر ان کے دلوں میں اخلاص ہوتا ہے۔پھر آپ نے مثال دی ہے اس کا خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔پیرا ایک شخص ہوا کرتا تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خادم تھا۔بڑی موٹی عقل کا آدمی تھا۔سمجھ نہیں سکتا تھا کہ احمدیت کیا چیز ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اُس کا ذاتی لگاؤ تھا۔وہ بیمار تھا۔اُس کے والدین اُس کو علاج کرانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس چھوڑ گئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس کا علاج کیا۔ٹھیک ہو گیا اور وہ ڈیوڑھی پر پڑا رہتا تھا۔اُس کے رشتہ دار جب واپس لینے کے لئے آئے تو اُس نے کہا نہیں۔اب جس نے میرا علاج کیا تھا ئیں تو اُس کے پاس ہی رہوں گا۔تمہارے ساتھ نہیں جاتا۔وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ڈیوڑھی میں بیٹھا رہتا تھا۔پیغام لانا، پیغام رسانی کرنا، مہمانوں کو کھانا پہنچانا، یہ کام تھا لیکن نمازیں نہیں پڑھتا تھا۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہاں بیٹھا رہتا ہے۔بعض لوگوں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ بن جائے کہ نمازیں نہیں پڑھتا۔اُسے کہا کہ نماز پڑھا کرو۔خیر اُس کو بڑا سمجھا یا سمجھوایا، اس کو لالچ بھی شاید دیا۔ایک دن وہ پانچوں نمازیں پڑھنے کے لئے چلا گیا۔اس عرصے میں جب وہ صاحب مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے تو اندر سے جو خاتون مہمانوں کے لئے کھانا لے کے آئیں ،اس نے آوازیں دیں۔آواز نہیں پہنچی تو زور سے آواز دی کہ کھانا لے کے جاؤ نہیں تو میں تمہاری شکایت کروں گی۔اُس وقت نماز ہو رہی تھی۔”التحیات پر بیٹھے ہوئے تھے۔تشہد میں سارے بیٹھے ہوئے تھے۔اس نے جب اونچی آواز دی تو پیر صاحب کو پہنچ گئی تو انہوں نے وہیں مسجد سے بیٹھے بیٹھے آواز دی کہ ٹھہر جا التحیات پڑھ لواں تے آنداں واں۔تو یہ اُن کی دماغی حالت کی حالت تھی۔لیکن حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ اُس وقت قادیان میں پوسٹ آفس نہیں ہوتا تھا، نہ ریل تھی ، تارگھر وغیرہ کچھ نہیں تھا اور سٹیشن بھی نہیں تھا۔جو لوگ بٹالہ میں سٹیشن پر اترتے تھے تو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب