خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 114 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 114

خطبات مسرور جلد 11 114 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء حضرت خلیفة المسیح الثانی اُن کے خلاف کوئی کوشش کر رہے ہیں) ان لوگوں نے بعض ایسی وجوہات سے جو اخبار میں بھی بیان کر دی گئی ہیں، کئی قسم کی ناجائز حرکات کیں“۔پھر آگے فرماتے ہیں کہ جولوگ اخلاق میں گر جاتے ہیں وہ اپنے بغض کا بدلہ غیر اخلاقی طور پر لینے کے درپے ہو جاتے ہیں۔اس وجہ سے انہوں نے ایسی باتیں کرنی شروع کیں جو الزامات اور اتہامات سے تعلق رکھتی ہیں“۔اور بڑے گندے گندے الزامات لگائے تھے لیکن آپ نے اُس کا کوئی جواب نہیں دیا۔تاریخ احمد بیت میں جو لکھا ہوا ہے۔اُس کا بھی خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کی کامیابیوں اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی ہر حلقے میں بڑھتی ہوئی مقبولیت دیکھ کر بعض لوگوں نے جن سے سلسلہ کی عظمت اور آپ کی شہرت دیکھی نہیں جاتی تھی ، آپ کی زبردست مخالفت شروع کر دی۔چنانچہ اس غرض کے لئے قادیان کے بعض مستری جو مشین سوتیاں کی دوکان چلاتے تھے آلہ کار بنائے گئے جنہوں نے حضرت خلیفہ ثانی پر اقدام قتل کا مقدمہ کرنے کے علاوہ ایک اخبار ”مباہلہ“ نامی جو قادیان سے جاری ہوتا تھا، جاری کر کے آپ کی ذات مقدس پر شرمناک حملے کئے اور اپنی دشنام طرازی اور اشتعال انگیزی سے جماعت کے خلاف ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا۔یہ فتنہ در اصل ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا جس کے پیچھے سلسلہ احمدیت کے مخالف عناصر کام کر رہے تھے اور جنہوں نے احمدیوں کو بدنام کرنے بلکہ کچلنے کے لئے پوری کوشش سے ہر قسم کے اوچھے ہتھیار استعمال کئے۔اس فتنہ نے جہاں دشمنانِ احمدیت کی گندی اور شکست خوردہ ذہنیت بالکل بے نقاب کر دی، وہاں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی یوسفی شان کا اظہار ہوا اور آپ نے صبر اور تحمل کا ایک ایسا عدیم النظیر نمونہ دکھایا کہ ملک کا سنجیدہ اور متین طبقہ ورطہ حیرت میں پڑ گیا اور انہوں نے گند اُچھالنے والوں کے خلاف نفرت اور بیزاری کا کھلا اظہار کیا اور کئی اخباروں نے پھر اس بات کو لکھا بھی۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحہ 627 مطبوعہ ربوہ ) حضرت خلیفہ مسیح الثانی جلسہ سالانہ 1927ء میں اپنی تقریر میں ا فتنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایسی باتیں الہی سلسلوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی سنت کے ماتحت لگی رہتی ہیں۔ان سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ہمارا فرض کام کرنا ہے۔دشمنوں کی شرارتوں سے گھبراناہمارا کام نہیں۔جو چیز خدا تعالیٰ کی ہوا سے وہ خود غلبہ عطا کرے گا۔اللہ تعالیٰ اپنی چیزوں کی آپ حفاظت کرتا ہے۔اگر سلسلہ احمدیہ کسی بندہ کا سلسلہ ہوتا تو اتنا کہاں چل سکتا تھا۔یہ خدا کا ہی سلسلہ ہے وہی اُس کی پہلے حفاظت کرتا رہا ہے اور وہی آئندہ کرے گا“۔(انشاء اللہ ) ” خدا تعالیٰ نے مجھے بتلایا ہے کہ شوکت و سلامتی ، سعادت اور ترقی