خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 113
خطبات مسرور جلد 11 113 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 فروری 2013ء حضرت میاں سو ہنے خان صاحب فرماتے ہیں کہ اب میں صداقت خلیفہ ثانی بیان کرتا ہوں جو میرے پر ظاہر ہوئی۔جس وقت احرار کا بہت زور تھا اور مستریوں نے بھی حضور پر بہت تہمت لگائی تھی۔میں نے دعا کرنی شروع کر دی کہ اے اللہ ! میرے پیر کی عزت رکھ۔وہ تو میرے مسیح کا بیٹا ہے۔بہت دعا کی اور بہت درود شریف اور الحمد شریف پڑھا اور دعا کرتا رہا۔خواب عالم شہود میں ایک شخص میرے پاس آیا۔اُس نے بیان کیا کہ مشرق کی طرف بڑھا گاؤں میں مولوی آئے ہوئے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ احمدیوں کو ہم نے جڑ سے اکھیڑ دینا ہے۔اور بندہ (یعنی یہ میاں سوہنے خان صاحب) کہتے ہیں کہ میں ، برکت علی احمدی اور فتح علی احمدی کو اپنے ساتھ لے کر خواب میں ہی اُن کی طرف روانہ ہوا۔جہاں مولوی آئے ہوئے تھے۔جب وہ موضع پنڈ دری قد پہنچے ، اُس وقت نماز عصر کا وقت ہو گیا۔میں نے امام بن کر ہر دو احمد یوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی۔اتنے میں خیر دخان اور غلام غوث احمدی پھگلا نہ بھی آگئے۔میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔آسمان پر دو چاند ہیں۔ایک چاند بہت روشن ہے۔دوسرا جو مر بع شکل اُس کے ساتھ لگا ہوا ہے، وہ بے نور ہے۔روشنی نہیں ہے۔میرے دیکھتے دیکھتے اس میں روشنی ہونی شروع ہو گئی۔غرضیکہ وہ چاند دوسرے چاند کے برابر روشن ہو گیا۔میں نے دعا کی ، یہ دونوں ایک قسم کے روشن ہو گئے۔اُس وقت مجھے آواز آئی کہ پہلا چاند مرزا صاحب مسیح موعود ہیں اور یہ دوسرا چاند جواب روشن ہوا ہے یہ میاں بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ثانی ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ جلد نمبر 12 صفحہ 199-200 از روایات حضرت میاں سو ہنے خان صاحب) جیسا کہ میں نے کہا مستریوں کا بھی قادیان میں بڑا فتنہ اُٹھا تھا، جس میں حضرت خلیفہ ثانی پر بڑے غلیظ الزامات بھی ان لوگوں نے لگائے تھے اور مقدمہ بھی قائم کیا تھا۔اس کا خلاصہ کچھ ذکر کر دیتا ہوں، اکثر کو شاید نہیں پتہ ہو گا۔ویسے تو یہ تفصیل پڑھنے والی ہے۔حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مقدمہ پچھلے دنوں میرے خلاف کیا گیا کہ گویا میں نے آدمی مقرر کئے تھے کہ بعض لوگوں کو مروا دوں۔یہ وہ لوگ تھے جو مشین سوئیاں کی دوکان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہی کی طرف سے یہ مقدمہ کیا گیا تھا اور دوسرا مقدمہ یہ تھا کہ آئندہ کے لئے میری ضمانت لی جائے۔پھر آگے فرماتے ہیں ان لوگوں کو قتل کروانا تو بڑی بات ہے۔میں نے اُن کے لئے کبھی بددعا بھی نہیں کی۔مگر انہوں نے اپنے او پر قیاس کیا۔پچھلے دنوں بعض وجوہ سے جو خیالی طور پر گھڑی گئیں ( بعض ایسی وجوہات جو خیالی تھیں ) اُن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اُن کے خلاف کوشش کی جا رہی ہے۔( اُن کو یہ خیال پیدا ہوا کہ جس طرح