خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد 11 96 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء پڑھ رہے تھے۔31 جنوری کو ان کی وفات ہوئی ہے۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - جلسہ سالانہ جیسا کہ میں نے بتایا، ہو رہا ہے، اس کی تیاریاں کر رہے تھے جس طرح خدام کرتے ہیں۔تیاریوں کے سلسلہ میں وقار عمل کے دوران سیڑھی سے گرنے کی وجہ سے سر میں شدید چوٹ آئی۔فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔وہاں علاج ہورہا تھا۔ایکسرے سے پتہ لگا کہ سر کی ہڈی پر سکلپ (Sculp) میں کر یک آیا ہے۔ڈاکٹروں نے آپریشن تجویز کیا۔آپریشن کی تیاری ہو رہی تھی کہ اُس سے پہلے ہی ان کی وفات ہوگئی۔إِنَّا لِلهِ وَاتَّاً إِلَيْهِ رَاجِعُونَ سیرالیون کے ہمسایہ ملک گنی کنا کری سے یہ جامعہ میں پڑھنے کے لئے آئے تھے۔بہت نیک مخلص اور محنتی طالبعلم تھے۔مرحوم اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔جب انہوں نے وقف کر کے جامعہ احمدیہ میں پڑھنے کا ارادہ کیا تو گھر والوں نے بہت مخالفت کی لیکن وہ اپنے عہد پر قائم رہے۔گزشتہ سال جب چھٹیوں میں سیرالیون سے گنی کنا کری گئے تو موصوف کے والدین نے اپنے بیٹے میں نمایاں تبدیلی دیکھی اور یہ تبدیلی دیکھ کر مرحوم کے والدین بھی بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے۔موصوف کے والد صاحب کا نام فاسینے کونڈے (Facine Code) اور والدہ کا نام سیویلی ڈونو (Siwili Douno) ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ یہ نو جوان بڑے صالح متقی ، جماعت اور خلافت سے بے انتہا محبت کرنے والے تھے۔نیز جو بھی ذمہ داری ان کے سپرد کی جاتی اپنی استطاعت سے بڑھ کر اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کرتے۔ان کے اپنے ایک دوست نے بتایا کہ ہمیشہ اس دعا کے لئے کہا کرتے تھے کہ دعا کرنا کہ میری موت جب بھی آئے ہمیشہ احمدیت پر ہی آئے۔دوسرا جنازہ چوہدری بشیر احمد صاحب صراف سابق صدر حلقہ غربی ڈسکہ کوٹ کا ہے۔24 رنومبر 2012 ء کو 82 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی - إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - حضرت میاں اللہ دتہ صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے تھے۔آپ کو تقریباً 61 سال مختلف عہدوں پر کام کرنے کی توفیق ملی۔سولہ سال قائد مجلس خدام الاحمدیہ، چھتیس سال سیکرٹری مال ، پیچیں سال سیکرٹری رشتہ ناطہ، بائیس تئیس سال صدر جماعت اور دس سال امیر حلقہ رہے۔اس کے علاوہ آپ چالیس سے زیادہ مرتبہ یعنی چالیس سال تقریبا شوری کے نمائندے بھی مقرر ہوئے۔صوم وصلوۃ کے پابند، تہجد گزار ، ہمدرد، مہمان نواز ، خلافت اور نظام جماعت کے وفادار، غیر معمولی قربانی کرنے والے بہت سی خوبیوں کے حامل تھے۔نیک انسان تھے۔متقی انسان تھے۔آپ کو تین خلفاء کی خدمت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔اس طرح کئی صحابہ اور جماعتی عہدیداروں کی ان کے دورہ جات کے دوران بھی خدمت کی