خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 97 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 97

خطبات مسرور جلد 11 97 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء توفیق پائی۔آپ کو ڈسکہ کوٹ میں ایک بڑی جگہ لے کر مسجد تعمیر کروانے کی توفیق بھی ملی۔بہت دلیر اور بہادر، نڈر انسان تھے۔غیر احمدی لوگ بھی آپ کی شخصیت سے متاثر تھے۔تین بار اسیر راہ مولیٰ ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور تین بیٹے یادگار چھوڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔تیسرا جنازہ مکرم عبدالغفار ڈار صاحب کا ہے جن کی 5 رفروری 2013ء کو وفات ہوگئی۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ راولپنڈی میں تھے۔آخری وقت تک بالکل ٹھیک تھے۔بظاہر کوئی ایسی بات نہیں تھی جو خطرناک ہوتی۔ان کی آخر تک صحت بھی بڑھاپے کے علاوہ باقی تو ٹھیک تھی۔97 سال کی عمر ہونے کے باوجود دوسری منزل پر پچیس چھیں سیڑھیاں وغیرہ چڑھ کر جایا کرتے تھے۔وفات کے روز شام ساڑھے چھ بجے کے قریب چائے پی کر کہا کہ کھانا کھانے کو دل نہیں چاہ رہا۔صرف رات کو سونے کی دوائی دے دینا۔رات دس بجے کے قریب جب آپ کا نواسہ دوائی کھلانے کمرے میں گیا تو لائٹ بند تھی، چہرہ زرد تھا اور جسم میں کچھ حرکت نہ تھی۔غالباً اسی وقت وفات ہو چکی تھی۔بہر حال ہسپتال لے گئے تو پتہ لگا۔ڈاکٹروں نے دیکھا تو وفات ہو چکی ہے۔آپ کا سنِ پیدائش 1916ء ہے۔آپ کا تعلق آسنور (مقبوضہ کشمیر ) سے ہے۔آپ کا خاندان کشمیر کے اولین مخلص احمدیوں کا ہے۔آپ کے دادا حضرت حاجی عمر ڈار صاحب اور آپ کے والد حضرت عبد القادر ڈار صاحب حضرت اقدس کے صحابہ میں سے تھے۔اسی طرح آپ کے چچا حضرت عبد الرحمن صاحب بھی صحابی تھے۔ان کے دادا جان کے ہم زلف مرحوم محمد رمضان بٹ صاحب محلہ کشمیریاں سیالکوٹ میں مقیم تھے۔علامہ اقبال کے محلہ کی ایک معروف مسجد کبوتراں والی میں آپ کا آنا جانا ہوا۔یہ لکھتے ہیں کہ اسی محلہ میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی دعوت الی اللہ کے نتیجہ میں دادا صاحب نے قادیان کا سفر اختیار کیا۔حضرت مولانا عبدالکریم صاحب نے دادا صاحب مرحوم سے کہا کہ خواجہ صاحب! آپ اپنے وطن سے ایک اعلیٰ دینی فریضہ کی انجام دہی کے لئے گھر سے نکلے ہیں۔حج کے لئے نکلے تھے لیکن بیماری کی وجہ سے، وہاں وبا کی وجہ سے حج پر جانہیں سکے تھے۔کہتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور عمل میں آچکا ہے۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امام مہدی کو نہ صرف قبول کرنا ضروری ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام پہنچا نا واجبات میں سے ہے۔لہذا آپ ہمارے ساتھ قادیان چلیں۔جس بزرگ اور ولی اللہ نے امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اُن کی زیارت کریں، اُن کو پرکھیں۔چنانچہ آپ قادیان تشریف لے گئے۔جب