خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 95
خطبات مسرور جلد 11 95 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء پروگرام ہوسکیں اور رہائش وغیرہ کا بھی انتظام ہو جائے۔زیادہ تعداد میں لوگ شامل ہو سکیں۔جلسہ سالانہ کے جو انتظامات اور تیاریاں ہوتی ہیں وہ مکمل تھیں کہ پرسوں کچھ نام نہاد علماء نے اپنے چیلے چانٹوں کو اکٹھا کر کے ( مدرسوں کے طلباء کو ہی اکٹھا کیا ہو گا) اور کچھ جماعتِ اسلامی کے لوگ تھے۔انہوں نے تقریباً دو تین ہزار کی تعداد میں حملہ کر دیا۔پولیس وہاں کھڑی رہی ، اُس نے کچھ نہیں کیا۔آخر ان دہشت گردوں نے ، حملہ آوروں نے تقریباً سارا سامان اور جو انتظامات تھے انہیں درہم برہم کیا۔پھر کرائے کا جو بہت سارا سامان تھا، کرسیاں اور ٹینٹ اور باقی چیزیں مارکیز وغیرہ اُس کو آگ لگادی۔جس سے کروڑوں کا نقصان ہوا ہے۔تو اسلام کے ان نام نہاد علم برداروں کا یہ رویہ ہے۔بہر حال ابھی جلسہ تو کینسل نہیں ہوا، وہ تو جیسا کہ میں نے کہا انشاء اللہ ہو رہا ہے۔جماعت کی جو اپنی جگہ ہے اُس میں ہو رہا ہے۔تعداد کم ہوگی ، جگہ کی تنگی ہو گی لیکن جلسہ بہر حال ہمیشہ کی طرح انشاء اللہ تعالیٰ منعقد ہو گا۔اللہ تعالی تمام شاملینِ جلسہ جن میں اس سال بہت سارے غیر ممالک کے نمائندے اور مہمان بھی گئے ہوئے ہیں ، اُن کو بھی حفاظت میں رکھے اور جلسہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے خیریت سے اختتام کو پہنچے۔اور ان علماء کے شہر اُن پر الٹائے۔جو بہت بڑا مالی نقصان ہوا ہے، جیسا کہ میں نے کہا، اللہ تعالیٰ اس کی بھی تلافی فرمائے۔اس لئے بہت دعائیں کریں۔دوسرا جلسہ جیسا کہ میں نے کہا سیرالیون میں ہو رہا ہے۔سیرالیون کے اور بنگلہ دیش کے علماء کا یہ فرق ہے کہ وہاں کے بعض علماء نے خیر سگالی کے جذبات رکھتے ہوئے پیغامات بھیجے ہیں اور شامل ہوئے ہیں۔وہ لوگ نیک خواہشات کے جذبات رکھتے ہیں۔اُن میں کم از کم انسانیت ہے۔باوجود مخالفت کے ہمارے پروگراموں میں آبھی جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو اس کی جزا دے اور اُن کے دل مزید کھولے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوئی کو بھی سمجھنے لگیں، پیغام کو سمجھنے لگیں۔بہر حال سیرالیون کے لئے بھی دعا کریں۔اُن کا جلسہ بھی ہر لحاظ سے بابرکت اور کامیاب ہو اور تمام شامل ہونے والے احمدی اور دوسرے مہمان بھی جلسہ کی برکات سے فیضیاب ہونے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے سیرالیون کی جماعت بھی بہت زیادہ اخلاص رکھنے والی جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے اخلاص و وفا کو مزید بڑھاتا چلا جائے اور جلد تریہ ملک بھی اور تمام افریقہ بھی احمدیت کی آغوش میں آ جائے تا کہ اسلام کی حقیقی تعلیم پر سب کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد میں کچھ جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔پہلا جنازہ عزیزم کریفہ کونڈے (Kerifa Conde) جو جامعہ احمدیہ سیرالیون کے طالبعلم تھے ، اُن کا ہے۔یہ جامعہ میں درجہ ثانیہ میں