خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 90
خطبات مسرور جلد 11 90 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء کرنے کا اعلان قبل از دعا چوہدری فتح محمد صاحب نے مسجد مبارک میں کیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 156 - 157 روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) پھر یہ لکھتے ہیں کہ ستمبر 1912ء میں میں نے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مع چند دیگر احباب کے خواب میں دیکھا کہ حضور فرمارہے ہیں کہ ہمیں یہ منظور نہیں کہ کفار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تو گند بکنے میں حد کر دیں اور ہم امن سے رہیں۔ہم تو چاہتے ہیں کہ یہ کفار گند بکنے کی انتہا سے پہلے ہی پیسے جائیں۔کہتے ہیں جب یہ خواب میں نے حضرت خلیفہ اول کو سنایا تو حضور نے فرمایا کہ بہت مبارک خواب ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحه 143 روایات حضرت امیر محمد خانصاحب) پھر یہ لکھتے ہیں کہ 20 فروری 1913ء کی رات کو میں نے خواب میں حضرت خالد بن ولید اور ضرار بن از ورکودیکھا کہ تلواریں ہاتھ میں ہیں اور فتح پر فتح حاصل کر رہے ہیں بلکہ اکثر لوگ خود بخو دان کے آگے ہتھیار ڈالتے جارہے ہیں حتی کہ یزید نے بھی ہتھیار ڈال دیئے اور ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 144 روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) حضرت مرزا محمد افضل صاحب ولد مرزا محمد جلال الدین صاحب سفر جہلم کے ضمن میں فرماتے ہیں ( ان کی بیعت کا سن 1895ء ہے ) کہ 1903ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جہلم تشریف لائے اور میں وہاں گیا۔بے پناہ ہجوم تھا۔بعض لوگوں کے سوال پر حضور نے فرمایا کہ یہ خدا کا نور ہے ( یعنی سلسلہ احمدیہ ) لوگوں کے بجھانے سے نہیں بجھ سکے گا۔اس سفر میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کابل نے فرمایا تھا۔خدا نے مجھے تین بار سر دینے کو فرمایا ہے۔پس میں دوں گا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 225 - 226 روایات حضرت مرز امحمد افضل صاحب) پھر امیرمحمد خان صاحب ہی لکھتے ہیں کہ 16 دسمبر 1913 ء کی رات کو میں نے حضرت خلیفہ ایسح الاول کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں ایک سوٹا ہے اور بھورے رنگ کی بھینس حضرت خلیفہ اسیح الاول کی طرف دوڑتی ہوئی مارنے کو آتی ہے لیکن سوٹے کے خوف سے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی طرف منہ رکھتی ہوئی پیچھے کی طرف ہٹتی گئی۔یہاں تک کہ آپ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں کہ مہر میں بنانے والا اپنی دوکان میں بیٹھا تھا اور ایک اور شخص دوکاندار سے جعلی مہریں بنوانا چاہتا تھا اور وہ ابھی دوکان پر ہی تھا کہ حضرت خلیفہ امسیح الاول وہاں پہنچ گئے۔دوکاندار نے مجھے پوچھا کہ مولوی نور الدین صاحب یہی ہیں۔جب میں نے کہا کہ ہاں یہی ہیں تو دوکاندار نے جھٹ مہر بنانے والے کو پکڑ لیا اور حضرت خلیفہ اول اُس محل