خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 91
خطبات مسر در جلد 11 91 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء میں داخل ہو گئے ، بھینس بھی ساتھ تھی۔صاحب مکان خوش خو، خوش شکل، با رعب، نیک دل آدمی تھا۔اُس نے حضرت صاحب کا بہت ادب آداب کیا اور کھانا کھلایا اور جب حضور پھر اس مکان سے باہر تشریف لائے تو آپ کے گردا گرد بے شمار خلقت کا ہجوم تھا۔اتنے میں جعلی مہریں بنانے والا ہجوم سے نکل کر بھاگا۔بہتیری تلاش کی وہ کہیں نہ ملا۔میں نے پرواز کر کے بھی اُسے تلاش کیا مگر نظر نہ آیا خواب میں )۔خود ہی اس کی تعبیر بیان فرماتے ہیں۔کہتے ہیں یہ خواب حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کی لمبی بیماری اور تبدیلی آب و ہوا کے لئے حضرت نواب صاحب کی کوٹھی تشریف لانے اور مولوی محمد علی صاحب کے آپ کی حیاتی میں خلافت کے خلاف ٹریکٹ شائع کرنے اور پھر حضور کے جنازے پر بیشمار مخلوق کے ہجوم کے ہونے اور پھر مولوی محمد علی صاحب کے قادیان سے چلے جانے سے ہو بہو پوری ہو گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 148 - 149 روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) پھر یہ کہتے ہیں۔13 / مارچ 1914ء کی رات میں نے خواب میں ایک شہد کا چھتہ دیکھا جس سے شہد کی دھار نکل رہی تھی جسے ہم لوگ برتنوں میں ڈال رہے ہیں۔اُس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ مجھے غسل جنازہ مولوی شیر علی صاحب دیں جو میرے بھائی اور نیک ہیں۔چنانچہ میں نے اپنا یہ خواب صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں بروقت پہنچا دی۔خلیفہ اول کی زندگی کی بات ہے ) اور مولوی شیر علی صاحب نے ہی آپ کو ( خلیفہ اول کو غسل جنازہ دیا۔ہاں میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرے خواب کی بنا پر ہی آپ سے غسل دلایا گیا یا کوئی اس کی اور بھی صورت تھی۔البتہ غسل ضرور مولوی صاحب نے ہی دیا اور میری خواب بھی پوری ہوئی۔رض (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 149 - 150 روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) حضرت خیر دین صاحب ولد مستقیم صاحب جن کی بیعت کا سن 1906ء ہے، فرماتے ہیں۔جب ہمارے پیارے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مالک حقیقی کو جاملے اور خلافتِ اُولیٰ کا دور دورہ ہوا تو خدا تعالیٰ نے اس خلافت کے ذریعہ سے جو مجھ پر وار د فرمایا، وہ یہ ہے۔ایک دن رؤیا میں دیکھا کہ ایک نہایت ہی خوبصورت شاہی گھوڑا باندھا ہوا ہے۔جس کا رنگ شاہ گندمی کمید ہے۔اُس گھوڑے کے پاس ایک پلنگ ہے جس پر بستر بچھا ہوا ہے، تکیہ وغیرہ بھی رکھا ہوا ہے۔خواب میں ایسا معلوم ہوا کہ آندھی چلی ہے۔وہ آندھی موسم گرما کی سی آندھی ہے جس طرح موسم گرما میں رات کے وقت عموماً آندھی چلا کرتی ہے۔(انڈیا پاکستان میں رہنے والے جانتے ہیں، رات کو آندھیاں آیا کرتی ہیں ) بسترے مٹی، تنکے،