خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 346
خطبات مسرور جلد 11 346 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جون 2013ء والا ہو اور اُس نے ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کی ہو۔اور اللہ نے ابراہیم کو دوست بنالیا تھا۔پس ابراہیم کی ملت کی پیروی کی ضرورت ہے، اگر اللہ تعالیٰ کا دوست بننا ہے۔ملت کے مختلف معنی ہیں۔ایک معنی طریق اور راستے کے بھی ہیں۔اس کے معنی مذہب کے بھی ہیں۔( اقرب الموارد زیر مادہ مل) اور اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے جو حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی خصوصیت بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَقُى (النجم : 38) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : ” خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی راہ یہ ہے کہ اُس کے لئے صدق دکھایا جائے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قرب حاصل کیا تو اُس کی وجہ یہی تھی۔چنانچہ فرمایا ہے۔وَابْرَاهِيمَ الَّذِي وَفی (النجم : 38)۔ابراہیم وہ ابراہیم ہے جس نے وفاداری دکھائی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ وفا داری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت چاہتا ہے۔جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو تیار نہ ہو جاوے اور ہر ذلّت اور سختی اور تنگی خدا کے لئے گوارا کرنے کو تیار نہ ہو یہ صفت پیدا نہیں ہو سکتی۔فرمایا ” جب تک خالص خدا تعالیٰ ہی کے لئے نہیں ہو جاتا اور اُس کی راہ میں ہر مصیبت کی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔صدق اور اخلاص کا رنگ پیدا ہونا مشکل ہے۔فرمایا اللہ تعالی عمل کو چاہتا اور عمل ہی سے راضی ہوتا ہے۔اور عمل دُکھ سے آتا ہے۔لیکن جب انسان خدا کے لئے دُکھ اُٹھانے کو تیار ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اُس کو دُکھ میں بھی نہیں ڈالتا۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 703۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) فرمایا ” اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الہی سے بھرنا، خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظل اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو، کوئی فرق نہ ہو۔یہ ہو، سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 457۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) اور یہی خصوصیات تھیں، ابراہیم کی۔پھر آپ نے فرمایا کہ: ”اسلام کی حقیقت تب کسی میں متحقق ہو سکتی ہے کہ جب اُس کا وجود معہ اپنے تمام باطنی و ظاہری قومی کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اور اُس کی راہ میں وقف ہو جاوے۔اور جو امانتیں اُس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اسی معطی حقیقی کو واپس دی جائیں۔اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اُس کی حقیقتِ کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے۔یعنی