خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 345 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 345

خطبات مسرور جلد 11 345 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جون 2013ء کا ہو جاوے۔‘ فرمایا ” اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو درحقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے جو خدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالصا للہ حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجالا دے۔مگر ایسے ذوق وشوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔“ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 57-58) پس یہ وہ مقام ہے جو ہمیں اعتقادی اور عملی طور پر حاصل کرنا ہے۔اگر ہماری اپنی اصلاح ہے، اگر ہم اپنے ایمان میں مضبوط ہیں، اگر ہم اپنے اعمال پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ یہ خدا کی رضا کے مطابق ہیں یا نہیں اور انہیں خدا کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں ، دعاؤں پر زور دے رہے ہیں تو پھر دنیا داروں کے دنیاوی قانون یا قانون کی آڑ میں ظلم ہمیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے یا ظاہری طور پر شاید دنیاوی لحاظ سے نقصان پہنچا دیں لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہم مقبول ہوں گے۔قرآن کریم نے ان ظلم کرنے والوں کی مثالیں دے کر پہلے ہی ہمارے دلوں کو مضبوط فرما دیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں میں ساحر تھے یا بن کے جو آئے تھے اور پھر قائل ہو گئے، انہوں نے یہی جواب دیا تھا کہ فَاقْضِ مَا اَنْتَ قَاضٍ ( طه : 73) کہ پس تیرا جوز ور لگتا ہے لگا لے۔إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَوةَ الدُّنْيا - (طہ: 73) - تو صرف اس دنیا کی زندگی کے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے اسے ختم کر سکتا ہے۔پس اگر کوئی بھی حکومت ظلم کرنا چاہتی ہے تو اُن کے سامنے مومنوں کا انجام بھی ہے اور فرعونوں کا انجام بھی ہے۔آخری فتح ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مومنوں کی ہی ہوتی ہے اور یہاں بھی انشاء اللہ تعالیٰ ہوگی۔پس ہم نے تو اس ایمان کا مظاہرہ کرنا ہے جو دنیا والوں سے خوف کھانے والا نہ ہو بلکہ اگر کوئی خوف اور غم ہو تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو کس طرح حاصل کرنا ہے، اُس کے قرب کو کس طرح حاصل کرنا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایمان اور مسلمان ہونے کی اعلان کرنے والے اور نیک اعمال بجالانے والوں کے جس معیار کا ذکر فرمایا ہے، وہ سورۃ نساء کی اس آیت میں ہے کہ وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ حَنِيفًا وَاتَّخَذَ اللهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا - (النساء:126) اور دین میں اس سے بہتر کون ہو سکتا ہے جو اپنی تمام تر توجہ اللہ کی خاطر وقف کر دے۔اور وہ احسان کرنے