خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 99 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 99

خطبات مسرور جلد 11 99 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء ایک دفعہ سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف تو اس سے خوب نعرے لگے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ ثانی کا واقعہ سنایا کہ میرے والد صاحب قادیان میں ہی بیمار ہو گئے تو مجھے انہوں نے حضرت خلیفہ ثانی سے دوائی لینے کے لئے بھیجا۔میں گیا تو حضرت خلیفہ ثانی باہر نکل رہے تھے کہ میں نے عرض کی کہ اس طرح والد صاحب بیمار ہیں، انہوں نے دوائی منگوائی ہے۔آپ پھر واپس گئے اور اُن کی دوائی دی۔اس خاندان سے حضرت خلیفہ ثانی کا بھی بڑا پیار کا تعلق تھا۔بلکہ کشمیریوں ساروں سے ہی۔پھر انہوں نے جماعت کے بھی کافی کام کئے ہیں۔حضرت خلیفہ ثانی خاص کام ان سے لیتے رہے۔وہاں کشمیر سے اصلاح ایک رسالہ نکلتا تھا، اُس کی رہنمائی بھی حضرت خلیفہ ثانی فرما یا کرتے تھے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اُس میں ان کو رکھوایا۔بہر حال یہ کافی صائب الرائے بھی تھے۔ہمیشہ شوریٰ میں بھی رائے دیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔سید عبدالحئی شاہ صاحب کی روایت ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے ان کو تاحیات شوری کا ممبر مقرر فرمایا تھا۔ان کے نواسے کہتے ہیں کہ ہمیں نماز کے لئے کہتے رہتے اور ہر وقت یہ پوچھتے بھی تھے کہ نماز میں کتنا وقت رہ گیا ہے؟ خلفاء کے ساتھ اپنے واقعات بڑے رشک سے سناتے تھے۔خدا تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا ابھی یہ تینوں جنازے انشاء اللہ نمازوں کے بعد ادا ہوں گے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ یکم مارچ 2013ء تا 7 مارچ 2013 ءجلد 20 شماره 9 صفحه 5 تا9)