خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 98 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 98

خطبات مسرور جلد 11 98 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء وہاں پہنچے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مسجد میں مجلس لگی ہوئی تھی۔احباب مجلس سوالات کر رہے تھے اور حضور ان کے جوابات دے رہے تھے۔تو کہتے ہیں دادا جان کو خیال آیا کہ یہ مجلس تو علماء اور لکھے پڑھےلوگوں کے سوالات و جوابات کی مجلس ہے۔کیوں نہ میں بھی اپنے دل میں ایک سوال رکھوں۔اگر یہ مامور من اللہ ہوں گے تو ضرور میرے دل میں پیدا شدہ سوال کا جواب عطا کریں گے۔چنانچہ انہوں نے اپنے دل میں سوال رکھا۔کہتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ میرے سوال کئے بغیر مجھے اس سلسلہ میں جواب اور رہنمائی ملنی چاہئے کہ حق بات کیا ہے۔آپ کا یہ خیال کرنا ہی تھا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ بعض لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور حج بھی کرتے ہیں مگر اپنے رحمی رشتہ داروں سے حسنِ سلوک سے پیش نہیں آتے ، حالانکہ یہ امر صریح طور پر اسلامی تعلیم اور تقویٰ کے خلاف ہے۔کہتے ہیں اس بات سے دل میں جو میرا سوال تھا اُس کا مجھے جواب مل گیا۔شرح صدر ہو گئی اور میں نے بیعت کر لی۔انہوں نے اپنے بھائی کی کوئی زمین ان کو نہیں دی تھی، دبائی ہوئی تھی۔تو فوراً اپنے داماد کو خط لکھا کہ نشاندہی کر کے جو اُن کا رقبہ بنتا ہے اُن کو دے دو۔تو یہ ان کے دادا کے احمدی ہونے کا فوری اثر تھا۔بہر حال ڈار صاحب جو تھے، انہوں نے یاڑی پورہ مڈل سکول کشمیر سے پانچویں جماعت پاس کی۔1928ء میں قادیان تعلیم حاصل کرنے کے لئے آئے۔مدرسہ احمدیہ کی سات جماعتیں پاس کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا۔1938ء میں مولوی فاضل کیا۔ان کی اہلیہ تو پہلے ہی 2005 ء میں وفات پا چکی تھیں۔آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔غفار صاحب کی بڑی اونچی بھاری آواز تھی، بہر حال خوش الحان بھی تھے۔کہتے ہیں کہ میری آواز اچھی تھی تو حضرت خلیفتہ اسیح ثانی کی موجودگی میں ایک جلسہ ہوا جہاں مجھے نظم پڑھنے کا موقع ملا۔حضرت ملک عبدالرحمن صاحب خادم کی ایک نظم حضور کی موجودگی میں سنائی۔جب انہوں نے یہ لکھا تو کہتے ہیں کہ پچاسی سال ہو گئے ہیں لیکن مجھے یاد ہے کہ ایک شعر یہ تھا کہ ’وہ بچہ جو اکیلا رہ گیا تھا آشیانے میں“ ( حضرت خلیفہ ثانی کے متعلق یہ ظیم تھی ) وو وہ بچہ جوا کیلا رہ گیا تھا آشیانے میں خدا کے فضل سے اُس کے ہوئے ہیں بال و پر پیدا تو کہتے ہیں کہ میں نظم پڑھتے ہوئے ایک دفعہ حضرت خلیفہ ثانی کی طرف اشارہ کرتا تھا اور