خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 590
خطبات مسرور جلد دہم 590 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا کہ مخالفین اسلام کو یہ سب کچھ کرنے کی جرات اس لئے ہے کہ مسلمان ایک ہو کر نہیں رہتے لیکن ہم احمدی مسلمان جن کو خدا تعالیٰ نے مسیح موعود اور مہدی موعود کے ہاتھ پر جمع کر دیا ہے، ہمارا بہر حال کام ہے کہ دنیا کو ہدایت کے راستے دکھائیں ، امن اور سلامتی کے طریق بتا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس پیغام کو جو میں نے پڑھا ہے، اس کی خوب تشہیر کریں تا کہ دنیا کوحقیقی اسلامی تعلیم کا پتہ چل سکے۔دنیا داروں کو یہ پتہ ہی نہیں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہمارے دل میں اور حقیقی مسلمان کے دل میں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور آپ کا اسوہ حسنہ کس قدر خوبصورت ہے اور اس میں کیا حسن ہے ؟ ایک حقیقی مسلمان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس قدر عشق اور محبت ہے، اس کا یہ لوگ اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعشق کا اظہار آج سے چودہ سو سال پہلے صرف حسان بن ثابت نے اپنے اس شعر میں نہیں کیا تھا کہ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِئ فَعَمِي عَلَيْكَ النَّاظِرَ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمْتُ فَعَلَيْكَ كُنتُ أحَاذِرُ (دیوان حسان بن ثابت الانصاری صفحه 88 دار ارقم بیروت) (تحفه غزنویه روحانی خزائن جلد 15 صفحه 583) یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو تو میری آنکھ کی پتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھ اندھی ہو گئی۔اب تیرے مرنے کے بعد کوئی مرے مجھے کوئی پرواہ نہیں ، میں تو تیری موت سے ہی ڈرتا تھا۔یہ شعر آپ کی وفات پر حسان بن ثابت نے کہا تھا لیکن ہم میں اس زمانے میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت، ایک گہری عشق و محبت پیدا کی ہے۔ہمارے دل میں اس عشق و محبت کی جوت جگائی ہے۔آپ ایک جگہ اس عشق و محبت کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔آپ کا جو بڑا لمبا عربی قصیدہ ہے، اُس کے کچھ شعر ہیں کہ عاشق بنا یا۔قَوْمٌ رَأَوْكَ وَأُمَّةٌ قَدْ أُخْبِرَتْ مِنْ ذَالِكَ الْبَدْرِ الَّذِي أَصْبَانِي کہ ایک قوم نے تجھے دیکھا ہے اور ایک امت نے خبر سنی ہے، اُس بدر کی جس نے مجھے اپنا روتے ہیں۔يَبْكُونَ مِنْ ذِكْرِ الْجَمَالِ صَبَابَةٌ وَ تَأَلُمَّا مِنْ لَّوْعَةِ الْهِجْرَانِ وہ تیرے حسن کی یاد میں بوجہ عشق کے روتے ہیں اور جدائی کی جلن کے دُکھ اُٹھانے سے بھی