خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 589 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 589

خطبات مسرور جلد و هم 589 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 ستمبر 2012ء ناراست میں کیونکر فرق کر سکتے ہیں؟“ فرمایا یہ بڑا ضروری مسئلہ ہے کہ جھوٹے نبی کی شان وشوکت اور قبولیت اور عظمت ایسی پھیلنی نہیں چاہئے جیسا کہ بچے کی۔اور جھوٹوں کے منصوبوں میں وہ رونق پیدا نہیں ہونی چاہئے جیسا کہ بچے کے کا روبار میں پیدا ہونی چاہئے۔اسی لئے بچے کی اول علامت یہی ہے کہ خدا کی دائمی تائیدوں کا سلسلہ اس کے شامل حال ہو۔اور خدا اس کے مذہب کے پودہ کو کروڑ ہا دلوں میں لگا دیوے اور عمر بخشے۔پس جس نبی کے مذہب میں ہم یہ علامتیں پاویں ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی موت اور انصاف کے دن کو یاد کر کے ایسے بزرگ پیشوا کی اہانت نہ کریں بلکہ سچی تعظیم اور سچی محبت کریں۔غرض یہ وہ پہلا اصول ہے جو ہمیں خدا نے سکھلایا ہے جس کے ذریعہ سے ہم ایک بڑے اخلاقی حصہ کے وارث ہو گئے ہیں“۔تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 258 تا262) آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ایسی کا نفرنسیں ہونی چاہئیں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے مذہب کے بارے میں خوبیاں بھی بیان کریں۔(ماخوذ از روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 279) (ماخوذ از خطبہ الہامیہ روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 30) اور اس وقت اگر دیکھا جائے تو عملی رنگ میں اسلام دنیا کا پہلا مذہب ہے اور تعداد کے لحاظ سے یہ بہر حال دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔اس لئے دنیا کے دوسرے مذاہب کو بہر حال مسلمانوں کی عزت کرنی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت واحترام کا جو حق ہے وہ ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے نہیں تو دنیا میں فساد اور بے امنی پیدا ہوگی۔پس ہم جب دنیا کے مذاہب کا احترام و عزت کرتے ہیں، اُن کے بزرگوں اور انبیاء کو خدا تعالیٰ کا فرستادہ سمجھتے ہیں تو صرف اس خوبصورت تعلیم کی وجہ سے جو قرآنِ کریم نے ہمیں دی ہے اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھائی۔مخالفین اسلام باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نازیبا الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں، بیہودہ قسم کی تصویریں بھی بناتے ہیں، مگر ہم کسی مذہب کے نبی اور بزرگ کو جواب میں غلط الفاظ سے نہیں پکارتے یا اُن کا استہزاء نہیں کرتے۔اس کے باوجود مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ امن بر باد کرنے والے ہیں۔پہلے خود یہ لوگ امن برباد کرنے والی حرکتیں کرتے ہیں، جذبات کو بھڑ کانے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جذبات بھڑک جائیں تو کہتے ہیں کہ دیکھو مسلمان ہیں ہی تشدد پسند، اس لئے ان کے خلاف ہر طرح کی کارروائی کرو۔