خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 184 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 184

خطبات مسرور جلد دهم 184 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء ہے اور اپنے تمام وجود کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جو طاعت خالق اور خدمت مخلوق کے لئے بنائی گئی ہے۔“ اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 385) پھر خدا کا پیار حاصل کرنے کے لئے آپ فرماتے ہیں کہ : ” خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت خاص کے اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 421) مورد ہیں۔66 پھر خدا تعالیٰ سے وفاداری کے تعلق میں فرماتے ہیں کہ : ”ہر مومن کا یہی حال ہوتا ہے کہ اگر وہ اخلاص اور وفاداری سے اُس کا ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ اُس کا ولی بنتا ہے۔لیکن اگر ایمان کی عمارت بوسیدہ ہے تو پھر بیشک خطرہ ہوتا ہے۔ہم کسی کے دل کا حال تو جانتے ہی نہیں۔لیکن جب خالص خدا ہی کا ہو جاوے تو خدا تعالیٰ اس کی خاص حفاظت کرتا ہے۔اگر چہ وہ سب کا خدا ہے مگر جو اپنے آپ کو خاص کرتے ہیں ان پر خاص تجلی کرتا ہے۔اور خدا کے لیے خاص ہونا یہی ہے کہ نفس بالکل چکنا چور ہوکر اس کا کوئی ریزہ باقی نہ رہ جائے۔اس لیے میں بار بار اپنی جماعت کو کہتا ہوں کہ بیعت پر ہرگز ناز نہ کرو۔اگر دل پاک نہیں ہے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کیا فائدہ دے گا (یعنی بیعت کے لئے ہاتھ آگے بڑھانا کیا فائدہ دے گا ) مگر جو سچا اقرار کرتا ہے اس کے بڑے بڑے گناہ بخشے جاتے ہیں اور اس کو ایک نئی زندگی ملتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 65 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر چھٹی شرط یہ ہے۔یہ کہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آجائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرلے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنے ہر یک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159 اشتہار تکمیل تبلیغ ، اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ ) اس ضمن میں پہلے میں ایک حدیث پیش کرتا ہوں۔حضرت عمرو بن عوف بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو شخص میری سنتوں میں سے کسی سنت کو اس طور پر زندہ کرے گا۔( یہ قال الرسول کی بات ہورہی ہے ) کہ لوگ اُس پر عمل کرنے لگیں تو سنت کے زندہ کرنے والے شخص کو بھی عمل کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور اُن کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اُسے اپنالیا تو اُس شخص کو بھی اُن پر عمل کرنے والوں کے گناہوں سے حصہ ملے گا اور ان بدعتی لوگوں کے گناہوں میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔(سنن ابن ماجه_كتاب المقدمة باب من احيا سنة قداميتت حديث : 209)