خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 183
خطبات مسرور جلد دہم 183 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء پھر عاجزی کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں: ”اس سے پیشتر کہ عذاب الہی آکر توبہ کا دروازہ بند کر دے، تو بہ کرو۔جب کہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔جب بلا سر پر آپڑے تو اس کا مزا چکھنا ہی پڑتا ہے۔چاہیے کہ ہر شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملا دیں۔ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی بات سے تو بہ کریں۔تو بہ سے مراد یہ ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضامندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں۔اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔عادات انسانی کو شائستہ کریں۔“ (جو انسانی عادات ہیں انسان میں، اچھے اخلاق اُن میں اپنانے کی کوشش کرو) غضب نہ ہو۔تواضع اور انکساری اس کی جگہ لے لے ( غصہ کی جگہ عاجزی انکساری لے لے)۔اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔وَ يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينًا وَ يَتِمَّا وَ آسِيرًا (الدھر: 9) یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اس دن سے ہم ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔قصہ مختصر دعا سے، تو بہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔“ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 134-135 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر پانچویں شرط یہ ہے یہ کہ ہر حال رنج و راحت اور عسر اور میسر اور نعمت اور بلاء میں خدا تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرے گا اور بہر حالت راضی بقضا ہو گا۔اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اُس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اُس سے منہ نہیں پھیرے گا بلکہ آگے قدم بڑھائے گا۔‘ ( اللہ تعالیٰ کے تعلق میں )۔( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159 اشتہار تکمیل تبلیغ ، اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”یعنی انسانوں میں سے وہ اعلیٰ درجہ کے انسان جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لے لیتے ہیں۔“ (یعنی اپنی جان بیچ کر اللہ تعالیٰ کی رضا خریدتے ہیں، اپنی جان کی کچھ پرواہ نہیں کرتے )۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے۔خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے ( اس آیت کو بیان نہیں کیا گیا لیکن بہر حال آپ آیت کی تشریح کر رہے ہیں کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان بیچ دیتا ہے اور جانفشانی کے ساتھ اپنی اس حالت کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ خدا کا