خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 185
خطبات مسر در جلد دہم 185 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران:32)۔خدا کے محبوب بننے کے واسطے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی ایک راہ ہے اور کوئی دوسری راہ نہیں کہ تم کو خدا سے ملا دے۔انسان کا مدعا صرف اس ایک واحد لاشریک خدا کی تلاش ہونا چاہیے۔شرک اور بدعت سے اجتناب کرنا چاہئے۔رسوم کا تابع اور ہوا و ہوس کا معیت نہ بننا چاہیئے۔دیکھو ئیں پھر کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی راہ کے سوا اور کسی طرح انسان کا میاب نہیں ہوسکتا۔ہمارا صرف ایک ہی رسول ہے اور صرف ایک ہی قرآن شریف اُس رسول پر نازل ہوا ہے جس کی تابعداری سے ہم خدا کو پاسکتے ہیں۔آج کل فقراء کے نکالے ہوئے طریقے اور گدی نشینوں اور سجادہ نشینوں کی سیفیاں اور دعائیں اور درود اور وظائف یہ سب انسان کو مستقیم راہ سے بھٹکانے کا آلہ ہیں۔سو تم ان سے پر ہیز کرو۔ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے کی مہر کو توڑنا چاہا گو یا اپنی الگ ایک شریعت بنالی ہے۔تم یا درکھو کہ قرآن شریف اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی پیروی اور نماز روزہ وغیرہ جو مسنون طریقے ہیں ان کے سوا خدا کے فضل اور برکات کے دروازے کھولنے کی اور کوئی کنجی ہے ہی نہیں۔بھولا ہوا ہے وہ جو ان راہوں کو چھوڑ کر کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔نا کام مرے گا وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے فرمودہ کا تابعدار نہیں بلکہ اور اور راہوں سے اسے تلاش کرتا ہے۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 102 -103 ایڈیشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ ) پھر ساتویں شرط یہ ہے کہ یہ کہ تکبر اور نخوت کو بکلی چھوڑ دے گا اور فروتنی اور عاجزی اور خوش خلقی اور حلیمی اور مسکینی سے زندگی بسر کرے گا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 159 اشتہار تکمیل تبلیغ ،اشتہار نمبر 51 مطبوعہ ربوہ) تکبر کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : میں سچ سچ کہتا ہوں کہ قیامت کے دن شرک کے بعد تکبر جیسی اور کوئی بلا نہیں۔یہ ایک ایسی بلا ہے جو دونوں جہان میں انسان کو رسوا کرتی ہے۔خدا تعالیٰ کا رحم ہر ایک موحد کا تدارک کرتا ہے مگر متکبر کا نہیں۔اللہ تعالیٰ کا رحم ، جو بھی اللہ تعالیٰ کو ماننے والا ہے، اُس کو واحد سمجھنے والا ہے، اُس کی مدد کرتا ہے، اُس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے لیکن تکبر کو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرتا۔فرمایا کہ شیطان بھی موحد ہونے کا دم مارتا تھا مگر چونکہ اس کے سر میں تکبر تھا اور آدم کو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں پیارا تھا جب اس نے توہین کی نظر سے دیکھا اور اس کی نکتہ چینی کی اس لئے وہ مارا گیا اور طوق لعنت اس کی گردن میں ڈالا گیا۔سو پہلا گناہ