خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 149
خطبات مسرور جلد دہم 149 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء بھی کرتا کہ جب وہ سیر کو نکلے گا تو میں اُس کے ہمراہ ہو جاؤں گا۔تھوڑے دنوں کے بعد ایسٹر کی تعطیلات آگئیں۔میں نے اُسے کہا کہ میرے ساتھ قادیان چلو مگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوتا تھا اور کہتا تھا کہ میں مولویوں کے پاس جانے کو تیار نہیں ہوں۔اس پر میں نے اُس کو بہت سمجھایا کہ قادیان میں کسی تکلیف کا اندیشہ نہیں اور آپ سے کسی قسم کا برا سلوک نہ ہو گا۔جو چاہیں اعتراضات پیش کریں اور میں ہر قسم کی ذمہ داری لیتا ہوں۔آخر بڑے اصرار کے بعد وہ اس پر آمادہ ہو گیا۔۔۔۔( اور ہم قاد بان گئے۔) وہاں پر جا کر ہم حضرت مولوی صاحب سے ملے۔( یعنی حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاول سے ملے۔آپ نہایت شفقت سے پیش آئے اور (اُس لڑکے کو ) فرمایا کہ آپ جو چاہیں اعتراض کریں جواب دیا جائے گا۔میں نے آپ کی خدمت میں یہ عرض کیا تھا کہ حضور انہوں نے گوشت وغیرہ ترک کر دیا ہوا ہے۔( حضرت خلیفہ اول کو کہا کہ یہ گوشت نہیں کھاتے۔اور ہندووانہ طریق اختیار کیا ہوا ہے۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے اپنے گھر سے مونگی کی دال اور چند روٹیاں مہمان خانہ میں اُس کے لئے بھجوا دیں۔اس بات سے وہ بہت متاثر ہوا ( کہ میرے کھانے کا لحاظ رکھا گیا ہے۔اُس دن ظہر کی نماز کے لئے جب میں گیا تو اُس کو ساتھ لے گیا۔نماز کے بعد حضور مسجد مبارک میں تشریف فرما ہوئے۔اُن دنوں حضور ( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) آریوں کے متعلق کوئی تصنیف فرما رہے تھے۔چنانچہ اُس وقت حضرت صاحب نے آریہ لوگوں کے اعتراضات کا ذکر مجلس میں کر کے اُن کے جوابات دیئے۔اس کا اُس ( لڑکے ) پر بہت اثر ہوا۔اور اس کے بہت سے اعتراضات خود بخود دور ہو گئے اور اسلام سے بھی ایک گونہ دیلی پیدا ہوگئی۔عصر کی نماز کے بعد میں اُن کو حضرت مولوی صاحب ( حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اسیح الاول) کے درس القرآن میں لے گیا۔( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی قرآنِ کریم کا درس دیا کرتے تھے۔کہتے ہیں میں وہاں لے گیا) جو مسجد اقصیٰ میں ہوتا تھا۔اُس کے بعد ہم دونوں مولوی صاحب کی خدمت میں گئے اور میں نے عرض کی کہ حضور! انہیں کچھ سمجھا ئیں ،مولوی صاحب نے فرمایا کہ ان کو جو اعتراض ہے وہ کریں۔اس پر اُس نے گوشت خوری کے متعلق دریافت کیا جس کا جواب مولوی صاحب نے نہایت عمدہ طریق پر اُسے دیا اور اُس کی اس سے تسلی ہوگئی۔مغرب کی نماز کے بعد پھر ہم حضور علیہ السلام کی خدمت میں مسجد مبارک میں حاضر ہوئے۔حضور علیہ السلام شہ نشین پر بیٹھ کر گفتگو فرماتے رہے۔لوگ عموماً مولوی عبد الکریم صاحب کی معرفت سوال و جواب کرتے تھے۔چنانچہ یہ (لڑکا جو تھا یہ گفتگو سنتا رہا۔اس کے بعد اُس نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔دوسرے دن نماز ظہر کے وقت