خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 150
خطبات مسرور جلد دہم 150 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء اُس نے وضو کیا اور جا کر نماز ادا کی۔اُس دن پھر مولوی صاحب کا درس سنا۔اور تیسرے دن اس آریہ دوست نے حضور ( علیہ السلام) کی بیعت کر لی اور پھر اسلام میں داخل ہوا۔( آگے بیان کرتے ہیں کہ ) اور اب انہیں اسلام کے ساتھ ایسا اُنس پیدا ہوا کہ وہ آریہ سماج کی مجلسوں میں جا کر اسلام کی خوبیاں بیان کرتا اور آریوں کے اعتراضات کا جواب دیتا۔“ (ماخوز از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 30 تا 32۔روایت حضرت میاں عبدالرشید صاحب) تو یہ درد تھا اُن لوگوں میں کہ ایک ایسے شخص کو بھی جو مسلمان ہے، ضائع نہیں ہونے دینا چاہتے تھے۔پھر حضرت میاں عبد العزیز صاحب المعروف مغل صاحب بیان کرتے ہیں کہ ” نیلے گنبد میں ایک پٹھان مولوی ( یہ پٹھان مولویوں کا حال بیان کر رہے ہیں ) ادھیڑ عمر کا رہا کرتا تھا۔اُس کو میں نے تبلیغ کی تو اُس نے تسلیم کیا کہ حضرت مسیح موعود (علیہ الصلوۃ والسلام) سچے ہیں مگر آپ مجھ کو بے فائدہ آکر تبلیغ کرتے ہیں کیونکہ ہماری قوم میں یہ دستور ہے کہ اگر ہم ایک دفعہ انکار کر دیں تو پھر خدا بھی آکر کہے تو (ہم نہیں مانتے۔“ اس کے بعد اُس مولوی کا انجام یہ ہوا، سنا کہ وہ خود کشی کر کے مر گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 28 روایت میاں عبدالعزیز صاحب ) اور اسی طرح یہ ان کا دوسرا واقعہ ہے، یہ بھی ایک مولوی کا ہے، وہ بھی اتفاق سے ایک پٹھان تھا، اور وہ بھی زہر کھا کے کسی کے عشق میں خود کشی کر کے مر گیا۔وہ کہتے ہیں کہ لوہاری منڈی کے اندر اُس کی دکان تھی۔جب ہم وہاں سے گزرتے تو اکثر ہم کو دیکھ کر کہا کرتا تھا کا فر جارہے ہیں۔میں نے ایک دفعہ اس کو کہا کہ آپ تحقیق تو کریں۔آخر پر کھ کر تو دیکھیں۔جب بھی ہم گزرتے ہیں آپ یونہی ہمیں کا فر کہہ دیتے ہیں۔اُس نے کہا کہ اگر خدا بھی مجھے آکر کہے تو میں نہیں مانوں گا۔وہ بھی وہی جواب۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 28 روایت میاں عبدالعزیز صاحب ) حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے میاں موسیٰ صاحب کو تبلیغ شروع کی۔چنانچہ اُن کو قادیان بھیجا مگر وہ شامت اعمال سے قادیان سے بغیر بیعت کے واپس آگئے۔بعد ازاں میں اُن کو کبھی کبھی اخبار بدر سناتا رہا۔پھر میں نے اُن کو ایک دن ایک حدیث کا ذکر سنا یا کہ ایک بدوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر کہا کہ میں خدا تعالیٰ کا رسول ہوں۔تب اُس بدوی نے بیعت کر لی اور اپنے قبیلہ کو بھی بیعت کے لئے حاضر