خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 148

خطبات مسر در جلد دہم 148 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء کی بیعت کرو گے۔میری عمر اُس وقت 24 سال کی تھی۔میں اور سید محمد شاہ صاحب ماچھی واڑہ کے سکول میں ہر دو ملازم تھے۔انہوں نے تبلیغ کا سلسلہ مجھ سے شروع کر دیا۔ان دنوں پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی کی شہرت تھی۔میں نے شاہ صاحب سے عرض کی کہ یہ پیشگوئی جو کہ پنڈت لیکھرام کے متعلق ہے سچی ہوئی تو ضرور بیعت کرلوں گا۔چنانچہ یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔میں نے فوراً بیعت کر لی۔اُس وقت مولوی عبد الکریم صاحب زندہ تھے۔سید محمد شاہ صاحب سے میں نے بیعت کا خط لکھوایا۔حضور کے پیش ہوا۔“ ( یعنی جب خط حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پیش ہوا تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنے ہاتھ سے اس کا جواب دیا۔کہتے ہیں ) خط میرے نام پہنچا کہ بیعت منظور ہوگئی ہے اور آپ کے لئے حضرت صاحب نے دعا کی ہے۔1904ء میں خط کے ذریعے بیعت کی تھی اور دستی بیعت 1906ء میں قادیان میں آکر کی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحه 149 روایت حضرت ماموں خان صاحب) حضرت میاں عبدالرشید صاحب بیان کرتے ہیں کہ لاہور میں ایک غیر احمدی کا لڑکا جو ریلوے میں ملازم تھا، آریہ خیالات کا ہو گیا۔اُس کے والدین کو اس سے بڑی پریشانی ہوئی۔اور وہ اُس کو بیگم شاہی مسجد کے ایک مولوی کے پاس لے گئے۔اُس نے مولوی صاحب (کے) سامنے جب چند آریوں کے اعتراضات پیش کئے تو وہ بہت طیش میں آگیا اور اُس کو مارنے کے لئے دوڑا۔( آریوں کے اعتراض پیش کئے۔مولوی کے پاس جواب کوئی نہیں تھا۔مولوی غصے میں آکر اُس کو مارنے لگا ) جس پر وہ نوجوان اپنی پگڑی وغیرہ وہیں چھوڑ کر بھاگ پڑا۔لوگ بھی اُس کے پیچھے بھاگے۔لوگوں کی یہ حالت دیکھ کر ایک احمدی احمد الدین صاحب جو رفوگری کا کام کرتے تھے وہ بھی ساتھ ہو لئے اور اُس کے مکان تک ساتھ گئے۔اصل واقعہ معلوم کرنے کے بعد وہ میرے پاس آیا۔(میاں عبدالرشید صاحب کے پاس وہ احمدی آیا ) اور مجھے اس کے حالات سے آگاہ کیا اور کہا کہ اُس کو ضرور ملنا چاہئے اور اس کے خیالات کی اصلاح کی کوشش ہونی چاہئے۔( یہ درد تھا کہ ایک مسلمان کیوں آریہ ہو گیا۔اور یہ احمد یوں میں ہی درد تھا۔مولوی تو صرف مارنے پر تلے ہوئے تھے۔چنانچہ ( کہتے ہیں ) میں اُن کے ہمراہ اُس کے مکان پر گیا۔پہلے تو وہ گفتگو ہی کرنے سے گریز کرتا تھا اور صاف کہتا تھا کہ میں تو آریہ ہو چکا ہوں۔مجھ پر اب آپ کی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا اور اُس نے گوشت وغیرہ ترک کر کے آریہ طریق اختیار کر لیا ہوا تھا۔اُن کی مجالس میں جاتا اور اُن کی عبادات میں شریک ہوتا تھا۔( خیر کہتے ہیں ) میرے بار بار جانے اور اصرار کرنے پر وہ کسی قدر مجھ سے مانوس ہوا۔جب وہ سیر کو جاتا تو میں بھی اُس کے ہمراہ ہو جاتا۔بعض اوقات میں اُس کے لئے انتظار