خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد دہم 8 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012 ء نے تمہارے لئے ایک لاکھ سیفا علیحدہ رکھ لیا تھا تو یہ لے لولیکن کسی کو بتانا نہیں۔تینوں نے یہی کہا کہ بتانا نہیں۔کہتے ہیں کہ جب دیگر ساتھیوں سے پوچھا تو ہر ایک کے پیسوں میں کسی نہ کسی وجہ سے کچھ نہ کچھ کٹوتی ہوئی ہوئی تھی اور کسی ایک کو بھی پورا ایک لاکھ فرانک سیفا نہیں ملا تھا جبکہ مجھے تین لاکھ فرانک سیفا مل گیا اور یہ محض دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے نتیجے میں تھا۔انہوں نے اُسی وقت اُس میں سے بیس ہزار فرانک چندہ بھی نکال کر دے دیا۔پھر گیمبیا کی ایک اور مثال ہے۔امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ایک دن ایک دوست کو تو تر اولے صاحب(Kuto Trawally) میرے دفتر آئے اور کہا کہ وہ ایک ہزار ڈلاسی چندہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں لوگوں پر ادھار رکھ سکتا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ پر ادھار نہیں رکھ سکتا۔یہ دوست اپنی ذات میں غریب اور محتاج ہیں اور اپنے خاندان کو بہت مشکل سے سنبھالتے ہیں لیکن مالی قربانی کرنے میں ہمیشہ نظام کی اطاعت کرتے ہیں اور کچھ نہ کچھ دینے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔انہوں نے کچھ عرصے بعد بتایا کہ جب انہوں نے ایک ہزار ڈلاسی چندہ ادا کیا تو اُس کے کچھ عرصے کے بعد ہی اُن کو اس سے زیادہ رقم کہیں سے مل گئی۔وہ کہتے ہیں کہ میرا ایمان ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کی جائے خدا تعالیٰ اس کے مطابق بلکہ اس سے بڑھ کر فضل فرماتا ہے۔پس یہ ہے ذاتی محبت پر ، ذاتی خواہشات پر اللہ تعالیٰ کو ترجیح دینا۔یہ چند ذکر میں نے مختلف ملکوں سے لئے ہیں۔رپورٹوں میں بے شمار ذکر آتے ہیں۔سیرالیون کا ایک ذکر ہے۔مکمینی کے مبلغ سلسلہ لکھتے ہیں کہ کمار ا صاحب مخلص احمدی ہیں، مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔جب تحریک جدید کے چندے کی وصولی کے لئے ان کے گاؤں گیا تو پتہ چلا کہ ان کا کچھ بقایا تھا اور سال بھی ختم ہونے کو تھا۔جب ان کے گھر گیا تو ( گھر کی حالت کا اندازہ لگائیں، ویسے یہاں بیٹھ کر ہم اندازہ نہیں کر سکتے )۔انہوں نے بتایا کہ میرے پاس اس وقت صرف ہیں کپ چاول خریدنے کے لئے رقم ہے تا کہ کل شام تک گھر میں کھانے کا انتظام کیا جا سکے۔جتنی رقم ہے وہ صرف اتنی ہے کہ کل شام تک میرے پاس گھر والوں کے لئے ایک دن کے کھانے کا خرچہ ہے اُس کے علاوہ رقم آنے کی کوئی امید بھی نہیں ہے۔لیکن میں یہ رقم اپنا بقا یا ادا کرنے کے لئے پیش کرتا ہوں۔کوئی پرواہ نہیں کی۔اور میں نے بیوی بچوں کو بتا دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ہی کھانے کا انتظام کرے گا۔کہتے ہیں کہ اسی رات اُن کی ایک بہن نے دوسرے گاؤں سے ایک بوری چاولوں کی بطور تحفہ بھجوادی اور اللہ تعالیٰ نے اس کا انتظام فرمایا۔