خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 7

خطبات مسر در جلد دہم 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012ء کی تنخواہ کے برابر وعدہ لکھوا دیا۔اور وہ معمولی ٹیچر تھی ، کوئی ایسی خاص آمدنی نہیں تھی کہ گزارہ بہت اچھا ہوتا ہو۔پانچ ہزار روپیہ ان کی تنخواہ تھی جو انہوں نے لکھوائی۔کہتے ہیں میں پھر دوسری جگہ پہنچا جہاں اُس خاتون کے والد رہتے تھے۔وہ صدر جماعت بھی تھے تو اُن کو بتایا گیا کہ آپ کی بیٹی نے بڑی قربانی کی ہے۔اس پر وہ خوشی سے رو پڑے اور اپنی بڑی بیٹی کو بلایا اور اُس کو کہا کہ تمہاری بہن نے یہ قربانی دی ہے۔تم اُس سے بڑی ہو تم کیا کہتی ہو۔تو اُس نے فوراً اُس وعدے پر ایک ہزار روپیہ بڑھا کے اپنا وعدہ لکھوا دیا کہ میں بڑی ہوں اس لئے زیادہ دوں گی۔پھر یہ دیکھیں کہ چند سال پہلے جو لوگ احمدیت میں شامل ہوئے ہیں ، اُن کے اخلاص کا اور قربانی کے جذبے کا کیا حال ہے؟ امیر صاحب مالی بیان کرتے ہیں کہ ہماری جماعت کے ایک دوست تر ابرے صاحب یونین کونسل میں کام کرتے ہیں۔موصوف چندوں میں باقاعدہ ہیں اور مالی قربانی میں پیش پیش رہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کے کام کے لئے بنتیس افراد پر مشتمل ایک ٹیم بنائی گئی اور کہا گیا کہ ایک مہینہ مسلسل کام کرنا ہے اور ایک دن بھی چھٹی نہیں کرنی۔اس کے عوض ہر ایک کو ایک لاکھ فرانک سیفا بطور اجرت کے ملے گا۔جو بھی ٹیم تھی ہر ایک کو اُس میں سے ایک لاکھ فرانک سیفا ملے گا۔چنانچہ کہتے ہیں ہم نے معاہدہ کر لیا۔ابھی کام کے دن ختم ہونے میں چھ دن باقی تھے کہ اُن کی ریجن ، فاناریجن“ کا جلسہ آ گیا۔کہتے ہیں انہوں نے پہلے سوچا کہ جماعت سے معذرت کر لیتا ہوں اور جلسے میں شامل نہیں ہوتا لیکن پھر میرے دل نے فیصلہ کیا کہ میں نے بہر حال جماعتی کام کو فوقیت دینی ہے۔میں نے یہ عہد کیا ہوا ہے۔خدا کا کام اول ہے۔اگر ایک لاکھ نہیں ملتا تو نہ ملے۔چنانچہ کہتے ہیں میں نے کام چھوڑ کے جلسے پر جانے کا پروگرام بنالیا۔باقی ساتھی مجھے بڑی ملامت کرنے لگے کہ کیوں پیسے ضائع کر کے جانے لگے ہو۔کہتے ہیں جب میں جلسے سے فارغ ہو کر ایک ہفتے بعد واپس آیا تو علاقے کی میئر نے کہا کہ تم معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلے گئے تھے لیکن میرے دل میں خیال آیا کہ تم خدا کی خاطر گئے ہو لہذا تمہارے لئے میں نے علیحدہ سے ایک لاکھ سیفا رکھا ہوا ہے وہ مجھ سے لے لو۔اس کے بعد کہتے ہیں کہ نائب میئر نے بلایا جو کام کا نگران تھا۔اُس نے بھی یہی کہا کہ گوتم چلے گئے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں میرے دل میں خیال آیا کہ تمہیں رقم ملنی چاہئے۔اُس نے بھی ایک لاکھ سیفا دے دیا کہ یہ میں نے رکھا ہوا تھا۔پھرا کا ؤنٹس کے انچارج نے بھی دفتر بلایا اور اُس نے بھی اُن کو ایک لاکھ سیفا دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ تم موجود نہ تھے اس لئے میں