خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد دہم 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 جنوری 2012 ء آئیوری کوسٹ کے مبلغ بیان کرتے ہیں کہ ایک نو مبائع خادم ہارون صاحب جو کہ ساندرا شہر میں انڈوں کی تجارت کرتے ہیں ، اُن کو جب مقامی معلم نے تربیتی سنٹر میں جا کر تربیت حاصل کرنے کی ترغیب دی تو یہ فوراً تیار ہو گئے اور اپنے ایک اور ساتھی کے ہمراہ اینگرو میں واقعہ تربیتی سنٹر میں پہنچ گئے اور تین ماہ کا کورس کیا اور احمدیت سے متعلق اپنی معلومات کو وسیع کیا اور یہ سوچ کر کہ اللہ تعالیٰ کے کام جارہا ہوں، اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے تجارت کو اپنے ایک چھوٹے بھائی کے سپر د کر گئے اور یہ امید تھی اور توکل تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کو خراب نہیں ہونے دے گا۔تین ماہ کا کورس مکمل کرنے کے بعد جب واپس لوٹے ہیں تو کہتے ہیں میری حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ ایک غیر معمولی منافع تھا جو اُن کو اس عرصے میں ہوا، جو اُن کے ہوتے ہوئے بھی کبھی ان کو نہیں ہوا تھا۔اور پھر انہوں نے اپنا چندہ پانچ سو سے بڑھا کر ایک ہزار فرانک کر دیا اور پھر اُس میں اللہ تعالیٰ نے مزید برکت ڈالی تو چندہ اور بڑھا دیا اور اب یہ اللہ کے فضل سے چار ہزار فرانک ہر ماہ چندہ ادا کرتے ہیں۔تحریک جدید، وقف جدید کے چندوں میں نہ صرف خودشامل ہوتے ہیں بلکہ اپنے مرحوم والدین جو شاید احمدی بھی نہیں تھے، اُن کو بھی شامل کرتے ہیں۔نومبائع ہیں والدین تو بہر حال احمدی نہیں ہوں گے ، اُن کی طرف سے بھی دے دیتے ہیں۔امیر صاحب برکینا فاسو بیان کرتے ہیں بو بوشہر کے ایک نو مبائع دوست تر اور ے(Traore) سلیمان صاحب کہتے ہیں کہ میں نے خطبہ جمعہ میں وقف جدید کی اہمیت کے بارے میں سنا تو میں ساری رات سو نہ سکا کہ جماعت اتنے بڑے بڑے کام کر رہی ہے اور ہم اس میں بھر پور حصہ نہیں لے رہے۔چنانچہ اگلے دن ساڑھے چار ہزار فرانک سیفا چندہ وقف جدید ادا کر کے گئے مگر اگلی رات پھر بڑی بے چینی میں کائی تو اگلی صبح پھر مشن ہاؤس میں آئے اور پھر ساڑھے چار ہزار فرانک ادا کیا اور کہنے لگے اب میں کچھ پرسکون ہوں۔سوئٹزرلینڈ کے مبلغ انچارج لکھتے ہیں کہ ہمارے ایک افریقن احمدی دوست اور لیس صاحب جن کا تعلق نائیجیریا سے ہے، ایک انٹرنیشنل ادارے میں ملازم ہیں۔جب یہ سوئٹزرلینڈ آئے تو انہوں نے یک مشت نو ہزار فرانک مسجد کے اکاؤنٹ میں بھجوائے اور ساتھ ہی نام کے ساتھ اپنا ٹیلی فون نمبر بھی لکھ دیا۔کہتے ہیں مجھے لگا کہ یہ کوئی نیا نام ہے، بڑی حیرانی تھی کہ یہ کون ہے، فون پر جب رابطہ کیا تو پوچھا کہ آپ نے اتنی بڑی رقم اکاؤنٹ میں جمع کرائی ہے یہ کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ مجھے یہاں سوئٹزرلینڈ میں آئے تین مہینے ہو گئے ہیں تو اپنا چندہ بھجوایا ہے۔مبلغ نے کہا کہ تین مہینے کا چندہ بھی اتنا نہیں بنتا تو انہوں