خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 122 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 122

خطبات مسرور جلد و هم 122 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012 ء یہ رسول جان اپنا نام لکھ رہے ہیں۔لکھتے ہیں کہ میرا تعلق آرشیکوو (Artikov) نامی خاندان سے ہے۔68 سال کا ہوں۔ہم سب اہلِ خانہ اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ مسیح موعود آچکے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ ہمیں گواہی دینے والوں کی صف میں شمار کیا جائے۔اور اس کے ساتھ ہم آپ کی خدمت میں یہ بھی درخواست دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری آئندہ نسلوں میں علمائے اسلام اور مسلمان ڈاکٹر پیدا کرے۔اُن کے ہاں ڈاکٹروں کی بھی کمی ہوگی۔نام نہاد علماء تو پہلے بھی اُن کے ہیں لیکن وہ حقیقی علماء کے لئے دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ جو حقیقی عبادالرحمن ہوں۔جو اللہ تعالیٰ کے صحیح احکامات پر چلنے والے ہوں۔اُس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں تو ان کے بارے میں وہاں کے مبلغ نے تعارف لکھا ہے کہ موصوف احمدیت کے سخت مخالفت تھے۔ان کا بیٹا پہلے احمدی ہو گیا اور یہ مخالفت کرتے رہے بلکہ اُس کو دھمکیاں دیتے رہے کہ تمہیں گھر سے نکال دوں گا۔لیکن کسی طریقے سے 2008ء میں خلافت جو بلی کے جلسے میں شامل ہو گئے ، اور اس جلسے کے دوران ہی ان پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے بیعت کر لی اور اب مبلغ لکھتے ہیں کہ وفا میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے صدقے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک خاص عشق ہو چکا ہے۔کہتے ہیں احمدیت سے پہلے جب ہماری بحث ہوتی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ان کو شدید نفرت تھی۔لیکن اب یہ حال ہے کہ سید نامسیح موعود کے عاشق صادق اور فدائی ہو چکے ہیں۔جب ان کو شروع میں جماعتی کتب دی گئیں تو بہت اعتراض کرتے تھے اور اب یہ حال ہے کہ اسلامی اصول کی فلاسفی کا از بک ترجمہ ہوا ہے تو کہتے ہیں پہلے میں نے ایک دفعہ پڑھی، پھر مجھے سمجھ آئی۔پھر دوسری دفعہ پڑھی تو مجھے اور سرور حاصل ہوا۔اب میں تیسری دفعہ پڑھ رہا ہوں۔تو یہ ہے نئے آنے والوں کے ایمان کی حالت۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرتے چلے جار ہے ہیں۔یہ بھی رشین ملکوں میں شمار ہونے والی ایک سٹیٹ ہی ہے۔اللہ تعالیٰ کرے کہ وہ وقت آئے جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام کو یہاں بھی پورا ہوتا دیکھیں کہ ہمیں وہاں ریت کے ذروں کی طرح احمدیت نظر آئے۔پس اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعے سے حقیقی اسلام کا دنیا کو پتہ چل رہا ہے۔یہ وہ علاقے ہیں جہاں ہماری مسجد میں نہیں ہیں بلکہ کھل کے تبلیغ کی بھی اجازت نہیں اور تعارف بھی احمدیت کا اچھی طرح نہیں ہوسکتا۔لیکن اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں