خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 121
خطبات مسرور جلد دہم 121 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012ء کرتے ہوئے حقیقی عبد بننے میں ہے۔اس مادی دور میں جبکہ ہر طرف مادیت کے حصول کے لئے، دنیا داری کے لئے ایک دوڑ لگی ہوئی ہے، یہ معیار حاصل کرنا یقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچنے والا بناتا ہے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے ذریعے حقیقی اسلام کا پیغام دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رہا ہے۔جہاں غیر مسلم بھی اسلام قبول کر کے عبادالرحمن بن رہے ہیں وہاں مسلمان بھی بدعتوں سے دور ہٹ کر حقیقی اسلام کو سمجھ رہے ہیں اور آپ کی بیعت میں شامل ہو رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے شروع میں بھی کہا تھا کہ حقیقی اسلام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نمائندگی میں پیش فرماتے ہیں۔پرسوں کی ڈاک میں ہی میں ایک از بک احمدی کا خط دیکھ رہا تھا، جس میں اس بات کا اظہار تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کی کایا پلٹی ہے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ نیک فطرتوں کو جماعت کا حصہ بناتا چلا جارہا ہے اور بدعات سے پاک کر رہا ہے۔از بک زبان میں انہوں نے لکھا ہے اس کا ترجمہ یہ ہے کہ وہ زندگی جو ہم اس وقت گزار رہے ہیں، اس میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن سے ہم مکمل بے خبر حال میں رہے ہیں۔آج کے دن تک وہ الفاظ جو انسان نے کبھی نہ سنے تھے، مثلاً یہ باتیں کہ وفات شدگان پر قرآن خوانی کرنا ، ( وہ اپنی بدعات کا ذکر کر رہے ہیں ) یا عیسی علیہ السلام کو فوت شدہ تسلیم کرنا وغیرہ۔لیکن صبر و تحمل سے ہم نے ان کتب کا مطالعہ کیا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چند ایک کتابوں کا مطالعہ کیا جو اُن کی زبان میں ابھی لٹریچر مہیا ہوا۔کہتے ہیں کہ جوں جوں ہم پڑھتے گئے ہمارے قلوب میں ، ہمارے دلوں میں روشنی اور نور داخل ہو کر ہمیں طاقت دیتا گیا۔الحمد للہ ان کتب کو پڑھنے کے بعد ہمیں احساس ہوا کہ ہم تو لمبے عرصے سے اللہ تعالیٰ کی راہ سے بہت ہی دور جا چکے تھے۔ہم آپ کی خدمت میں اپنے لئے درخواست کرتے ہیں کہ دعا کریں کہ جماعت سے لی گئی الہی قوت اور نور ہمارے پورے بدن میں سرایت کر جاوے۔لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پہلی بدعتوں بھری زندگی سے ہم نے چھٹکارا پالی۔الحمدللہ۔( آگے اپنے گاؤں کا نقشہ لکھتے ہیں کہ لیکن اگر آپ ہمارے گاؤں کے گلی کوچوں میں نکلیں تو انہی بدعتوں میں گرفتار انسانوں کو دیکھیں گے۔پس نئے آنے والے کس طرح چھٹکارے پارہے ہیں اور آپ تو جیسا کہ میں نے ذکر کیا بہت سے بزرگوں کی اولادیں ہیں تو اس لئے ہمیں خاص طور پر بہت کوشش کرنی چاہئے کہ اپنے اندر سے بدعتوں کو دور کریں۔ظاہری رسم و رواج کو دور کریں۔صرف زمانے کی رو میں نہ بہتے چلے جائیں نہیں تو یہ نئے آنے والے آگے نکلنے والے ثابت ہوں گے۔