خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 708
708 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012 ء خطبات مسرور جلد دہم اس جماعت کی مضبوطی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔اب یہاں جیسا کہ میں نے کہا رجسٹریشن بھی ہو چکی ہے۔جماعت کا باقاعدہ مشن ہاؤس ہے اور مسجد بھی ہے۔جب میں 2005ء میں آسٹریلیا میں گیا ہوں تو صدر صاحب سولومن آئی لینڈ مبشر مارٹنگا سو صاحب وہاں آئے تھے۔انہوں نے وہاں مجھ سے ملاقات کی ، اور بتایا کہ میں نے حافظ جبرائیل سعید صاحب کے ذریعہ 1994ء میں احمدیت قبول کی تھی۔پھر انہوں نے بتایا کہ ہمارے اس ملک میں احمدیت کے آنے سے پہلے کوئی مسلمان نہیں تھا، اس طرح جماعت احمدیہ کے ذریعے اس ملک میں پہلی بار اسلام داخل ہوا اور یہ سعادت حافظ جبرائیل سعید صاحب کے حصہ میں آئی۔اپنی ایک پرانی رپورٹ میں حافظ صاحب ذکر کرتے ہیں کہ 9 ستمبر 2001 کونجی پہنچا۔وہاں سے 10 ستمبر کو مارشل آئی لینڈ کے لئے روانہ ہو کر کر یباس میں دو یوم ٹرانزٹ کے طور پر قیام کیا۔چنانچہ 11 ستمبر کو جبکہ میں ابھی ٹرانزٹ میں ہی تھا تو امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر والا جو واقعہ تھاوہ پیش آ گیا۔چونکہ مارشل آئی لینڈ میں امریکہ کا بہت بڑا فوجی اڈہ ہے اور اس ملک کا دفاعی نظام امریکہ کے ہاتھ میں ہے اس لئے طبعاً یہ فکر لاحق ہوئی کہ پتہ نہیں اب کیا صورتحال ہو کیونکہ خاکسار کو یاد ہے کہ دس سال قبل جبکہ خلیج کی جنگ ہو رہی تھی تو اُس وقت خاکسار یہاں موجود تھا اور کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔بہر حال لکھتے ہیں کہ خاکسار نے بہت دعائیں کیں اور بہت سوچا کہ کچھ انتظار کروں یا ابھی چلا جاؤں۔مجھے بہت مشورہ دیا گیا کہ حالات خراب ہیں، آپ نے تبلیغ کرنے کے لئے بہت غلط وقت کا انتخاب کیا ہے۔بہتر یہ ہے کہ آپ فوری طور پر واپس چلے جائیں۔کہتے ہیں کہ پھر میں نے بہت دعائیں کیں کہ خلیفۃ المسیح کے ارشاد پر آیا ہوں۔اس مقصد کو حاصل کئے بغیر واپس نہیں جانا چاہتا جبکہ حالات بہت خراب ہیں۔بہر حال کہتے ہیں کہ دعاؤں کے بعد انشراح ہوا کہ ابھی چلا جاؤں یعنی جس کام پہ آیا ہوں وہ کروں۔خاکسار بذریعہ جہاز مارشل آئی لینڈ چلا گیا۔امریکہ کے واقعہ کے بعد تمام ائیر پورٹس پر سکیورٹی کافی سخت ہوگئی تھی۔ائیر پورٹ پہنچا تو وہاں پہلے ہی ایک پاکستانی کو صرف اس وجہ سے ڈیٹین (Detain) کیا ہوا تھا کہ وہ مسلمان تھا۔کہتے ہیں ان میں سے ایک آفیسر نے میرا پاسپورٹ دیکھا اور پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔میں نے بتایا کہ میں مشنری ہوں۔غالباً اُس نے نام سے اندازہ لگالیا کہ یہ بھی مسلمان ہے۔چنانچہ اُس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟ میں نے کہا کہ میں احمدی مسلمان ہوں، کچھ تامل کے بعد اُس نے دوبارہ مذہب کا پوچھا۔میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں احمدی مسلمان ہوں۔چنانچہ اُس نے