خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 707
خطبات مسرور جلد دهم 707 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012 ء کے عنوان سے حافظ صاحب نے یہاں تقریر بھی کی تھی۔گھانا جانے کے بعد یعنی جو عرصہ انہوں نے پیسفک ممالک میں گزارا ہے وہاں سے واپس آنے کے بعد بھی حافظ صاحب کو دورہ پر ان ممالک میں بھیجوایا جاتا رہا۔کیونکہ ان کا اچھا اثر و رسوخ تھا اور ان کا تبلیغ اور تربیت کا ڈھنگ بھی بہت اچھا تھا۔اکتوبر نومبر 2001ء میں آپ نے جزائر اور ممالک کے دورے کئے۔2003ء میں بھی آپ کو ساؤتھ پینک کے ان جزائر اور ممالک کے دورے پر بھجوایا گیا۔جو پہلا دورہ 2001ء میں آپ نے کیا ڈیڑھ ماہ کا دورہ تھا، جہاں جا کے آپ نے ان ممالک میں مضبوط رابطے کئے جس میں ویسٹرن ساموآ ، ٹونگا، کریباس ، سولومن آئی لینڈ ، ونو اتو اور طوالو شامل ہیں۔جماعتوں کو یہاں آرگنائز کیا اور مزید بیعتیں حاصل کیں۔سولومن آئی لینڈ میں حافظ جبرائیل سعید صاحب کے ذریعے 1988ء میں احمدیت کا پودا لگا تھا۔کچھ عرصہ یہ اور مصروفیات کی وجہ سے ، دوسرے جزیروں میں جانے کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکے تو انہوں نے اس وقت حضرت خلیفۃ المسیح الرابع” کو 1991ء میں یہاں ایک رپورٹ بھیجی کہ میں یہاں دو سال بعد آیا ہوں اور یہ دیکھا کہ جو کام دو سال قبل کیا تھا، وہ تمام کا تمام ختم ہو گیا۔نجی سے مسلم لیگ کا ایک بزنس مین آیا اور تمام افراد کے دل میں شکوک وشبہات پیدا کر کے جماعت سے متنفر کر دیا۔میں اپنے کام پر پانی پھر دیکھ کر بالکل ہل گیا ہوں۔لکھتے ہیں کہ حضور یہ میرا قصور ہے اور میں نہایت عاجزی سے آپ سے معافی مانگتا ہوں۔دیگر جزائر میں مصروفیت کے باعث میں یہاں نہیں آسکا۔گزشتہ سال یہاں کا پروگرام تھا لیکن ارشاد موصول ہوا تھا کہ دسمبر تک کریباتی میں ہی رہوں۔پھر خلیفہ رابع" کو لکھتے ہیں کہ حضور پھر سے دوبارہ کام کا آغاز کرنا ہے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب کرے اور مسلم لیگ جسے کویت کی حمایت حاصل ہے، جسے مسلمانوں نے پیسہ لگا کر وہاں بھیجا تھا حالانکہ اسلام ان کے ذریعے سے وہاں پہنچا، اُن کو ہم شکست دے سکیں۔خیر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے اس پر ان سے کافی افسوس اور ناراضگی کا بھی اظہار کیا۔اس کے بعد تو حافظ صاحب ایک لمحہ بھی چین سے نہیں بیٹھے اور مصمم ارادہ کیا کہ جو کچھ کھویا گیا ہے وہ سب واپس حاصل کریں گے۔اس طرح مسلسل دو سال محنت کرتے رہے اور اس علاقے میں دوبارہ سے احمدیت کا پودا لگا کر دم لیا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے یہاں ایک مضبوط جماعت قائم ہے اور یہاں پر احمدیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔اعلیٰ عہدیداران سے مل کر جماعت کی رجسٹریشن کے کام سے لے کر جماعتی عاملہ کی تشکیل اور ٹریننگ کا کام بھی حافظ صاحب نے کیا۔حافظ صاحب نے بعد ازاں مختلف دورہ جات میں