خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 709 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 709

خطبات مسر در جلد دہم 709 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء مجھے ایک ماہ کا ویزہ لگادیا اور اللہ کے فضل سے اُن کو اینٹری (Entry) مل گئی۔پھر ایک خط میں وہ لکھتے ہیں کہ ان علاقوں میں پہنچنے پر یہ معلوم ہوا کہ خاص طور پر اس وقت میں جبکہ تمام تر میڈیا اسلام کے خلاف برسر پیکار ہے اور القاعدہ اور اسامہ بن لادن کو لے کر اسلام پر تابڑ توڑ حملے کر رہا ہے، یہ دورہ نہایت ضروری ہے۔نیو یارک کے واقعہ کی وجہ سے لوگ اسلام کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہ تھے اور اکثر لوگ مسلمانوں کے قریب بھی آنے سے ڈرتے تھے۔چنانچہ اس موقع پر میڈیا پر اور دیگر مواقع پر اسلام کا دفاع کرنے کا موقع ملا اور مقامی احمد یوں کو اسلام کے دفاع کے لئے تیار کیا۔کر یباس میں ریڈیو پر اسلام کے خلاف جو پروپیگینڈا شروع ہوا اُس سے ہمارے احمدی کافی پریشان تھے۔چنانچہ خاکسار نے براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے مینیجر سے رابطہ کیا اور وقت لینے کی درخواست کی۔الحمد للہ کہ مجھے وقت مل گیا۔چنانچہ خاکسار نے جملہ مسائل ،القاعدہ، اسلامی نظریہ جہاد کے بارے میں تفصیل سے آگاہی دی۔الحمد للہ اس کا بہت فائدہ ہوا۔کہتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ اُس وقت خلیفہ وقت نے جو بھی فیصلہ کیا تھا اور عین ضرورت پر جزائر کا دورہ کرنے کا جو ارشا د فر مایا تھا، ( یہ 2001ء کی بات ہے) تو خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ صرف اسلام کا دفاع کرنے کی توفیق ملی بلکہ اس دورے میں 49 نئی بیعتیں بھی حاصل ہوئیں۔کہاں تو یہ تھا کہ لوگ مسلمانوں کے قریب بھی آنے سے ڈرتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے 49 نئی بیعتیں بھی مل گئیں۔پھر کہتے ہیں ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ کہ جماعت کو مستحکم کرنے کے لئے عاملہ کا انتخاب اور رجسٹریشن وغیرہ کے جملہ مسائل پر کام کرنے کی توفیق ملی۔گھانا میں ان کے ساتھ کام کرنے والے مبلغین اور داعیان الی اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں تبلیغ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔وہ اس کے لئے دن رات ایک کر دیتے۔داعیان الی اللہ کی ٹیمیں بھجواتے تو خود اُن کے پیچھے جاتے اور اُن کے ساتھ رہتے۔چیکنگ کرتے کہ کام کس طرح ہو رہا ہے، کہاں کہاں ہو رہا ہے۔ان میں بیحد صبر اور برداشت تھی۔اگر ما تحت غلطی کرتا تو اُسے پیار سے سمجھاتے۔دوستوں کے کام کاج اور خاندان وغیرہ کا علم ہوتا اور اُن کے گھریلو مسائل وغیرہ حل کرنے میں مدد کرتے۔اگر کسی مبلغ یعنی مقامی معلمین خلاف کوئی شکایت ہوتی تو کوشش کرتے کہ انہیں فارغ کرنے کے بجائے دوبارہ فعال اور مستعد کیا جائے اور جماعت کے استعمال میں لایا جائے۔بعض لوگ بڑی جلدی فیصلے کر لیتے ہیں کہ فارغ کرو اور شکایت کرو اور اس طرح فراغت کی کوشش ہوتی ہے لیکن یہ زیادہ سے زیادہ کوشش کرتے تھے کہ کسی احمدی سے اور خاص طور پر معلمین سے جتنا استفادہ کیا جاسکتا ہے،کیا جائے۔