خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 537

537 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء خطبات مسرور جلد دہم یہ بہت بڑا نذار ہے جو آپ نے فرمایا ہے۔ان دنوں میں بہت دعائیں کریں دعاؤں کا موقع بھی اللہ تعالیٰ نے میسر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقت میں وہ بنائے جو وہ چاہتا ہے۔آج ہم مسلمانوں کی حالت دیکھتے ہیں تو اور بھی زیادہ خوف پیدا ہو جاتا ہے کہ کہیں ہماری کسی نا اہلی اور بد عملی سے ناراض ہو کر خدا تعالیٰ ہمیں اپنے غضب کے نیچے نہ لے آئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے مثال دی ہے کہ جب بدعملیاں شروع ہو جائیں ، قول و فعل میں تضاد شروع ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ مومن کہلانے والوں کو کافروں کے ذریعہ سے سزا دلواتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ کئی دفعہ مسلمان کافروں سے تہ تیغ کئے گئے۔جیسے چنگیز خان اور ہلاکو خان نے مسلمانوں کو تباہ کیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے حمایت اور نصرت کا وعدہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ زبان تو لا اله الا اللہ پکارتی ہے لیکن دل کسی اور طرف ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 7 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) عمل دنیا میں ڈوبے ہوئے ہیں۔پس ہمارے لئے بڑے خوف کا مقام ہے۔ہمیں بھی ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے اس زمانے کے ہادی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو زمانے کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور پھر ہم پر مزید احسان کرتے ہوئے اس مامورزمانہ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔اگر ہم نے اپنی توجہ خدا تعالیٰ کی طرف نہ رکھی تو خدانخواستہ خدانخواستہ، ہم بھی اُس قانونِ قدرت کی چکی میں نہ پس جائیں جو قول و فعل میں تضاد رکھنے والوں کے لئے چلتا ہے۔آپ نے فرمایا اپنے یہ جائزے خودلو، دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کا خوف کس حد تک ہے۔دیکھو کہ کہاں تک قول وفعل ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں۔اگر دیکھو کہ قول و فعل برابر نہیں تو فکر کرو۔آپ نے فرمایا کہ جو دل ناپاک ہے، خواہ قول کتنا ہی پاک ہو وہ دل خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قیمت نہیں پاتا، بلکہ خدا تعالیٰ کا غضب مشتعل ہو گا۔آپ نے فرمایا پس میری جماعت سمجھ لے کہ وہ میرے پاس اس لئے آئے ہیں کہ تخم ریزی کی جاوے جس سے وہ پھل دار درخت ہو جاویں۔پس ہر ایک اپنے اندر خود غور کرے کہ اُس کا اندرونہ کیسا ہے؟ اور اُس کی باطنی حالت کیسی ہے؟ فرما یا اگر ہماری جماعت بھی خدا نخواستہ ایسی ہے کہ اُس کی زبان کچھ اور ہے اور دل میں کچھ ہے تو پھر خاتمہ بالخیر نہ ہو گا۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے۔ایک جماعت جو دل سے خالی ہے اور زبانی دعوے کرتی ہے، تو پھر وہ غنی ہے اور وہ پرواہ نہیں کرتا۔فرمایا کہ تاریخ پر نظر ڈالو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے