خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 538 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 538

خطبات مسرور جلد دہم 538 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012 ء میں جاؤ۔بدر کی جنگ کا نقشہ اپنے سامنے لاؤ۔بدر کی فتح کی پیشگوئی ہوچکی تھی، ہر طرح سے فتح کی امید تھی لیکن پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رورو کر گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا جب ہر طرح فتح کا وعدہ ہے تو پھر ضرورت الحاح کیا ہے؟ اس قدر درد اور تڑپ کے ساتھ دعائیں مانگنے کی ضرورت کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا وہ ذات غنی ہے۔ممکن ہے وعدہ الہی میں کوئی مخفی شرائط ہوں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد اول صفحہ 8 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ وہ تقویٰ کا مقام ہے جس کا اسوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور اگر اسی خوف اور تقویٰ کو ہم سامنے رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کی کوشش کرتے رہیں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ کامیابی ہماری ہے۔یا وہ لوگ کامیابی دیکھنے والے ہوں گے جن کے قول وفعل ایک ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مسلمانوں کی حالت کا ہلاکو خان اور چنگیز خان کی مثال دے کر جو نقشہ کھینچا ہے تو آج بھی اگر ہم نظر دوڑائیں تو یہی کچھ نظر آتا ہے۔مسلمانوں کی طاقت کوئی نہیں رہی۔غیروں کے لائحہ عمل پر عمل کر رہے ہیں۔قرآنی تعلیم کو بھلا بیٹھے ہیں۔اپنے ہی ملکوں میں اپنے تخت اور کرسیاں بچانے کے لئے مسلمان کہلانے والوں پر بے انتہا ظلم ہو رہا ہے۔عوام الناس کا بے دریغ قتل ہو رہا ہے۔سمجھتے ہیں کہ ان کے تخت محفوظ ہو جائیں گے ، یہ ان کی خوش نہی ہے۔ظلم کی سزا بھی ان لوگوں کو ملے گی اور تخت بھی ان کے جاتے رہیں گے۔جن ملکوں میں حکومتیں الٹی ہیں اور عوام کے نام پر نئی حکومتیں آئی ہیں، اُن کا بھی یہی حال ہے کہ وہ بھی ظلم کی پالیسی پر ہی عمل کر رہے ہیں اور نتیجہ اپنی طاقت کمزور کر رہے ہیں اور شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر غیروں کی ، دشمنوں کی خواہش پوری کر رہے ہیں کہ مسلمان کمزور ہوں اور کمزور رہیں اور مسلمانوں کے جو وسائل ہیں ان پر جو غیر ہیں وہ قبضہ کئے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جو مسلم امہ کو عقل دے۔اس کے لئے بھی دعا کریں۔بہر حال میں یہ بات کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ماننے والوں کا کیا مقام دیکھنا چاہتے ہیں؟ اور اس کے لئے کیا کیا ارشادات فرمائے ہیں اور جیسا کہ بیان ہوا کہ اس معیار کو حاصل کرنے کی اصل بنیاد تقویٰ ہی ہے۔اس مضمون کو مزید آگے بیان کرتا ہوں۔فرمایا کہ ہمیشہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے؟ فرمایا کہ اس کا معیار قرآن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزاد کر کے اُس کے کاموں کا خود متکفل ہو جاتا ہے۔جیسے کہ فرمایا وَ مَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ