خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 536 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 536

خطبات مسر در جلد دہم 536 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 ستمبر 2012ء ہیں اور جماعت کے معیار کیا ہوں اور کیا ہونے چاہئیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کو سامنے رکھتے ہوئے گو کمل الفاظ تو آپ کے نہیں ہوں گے لیکن بہر حال خلاصہ کچھ پیش کروں گا۔وہ ارشادات جو جلسہ میں شامل ہونے والوں کو آپ نے فرمائے۔آپ نے ایک ایسا لائحہ عمل دیا تھا جو انسانی زندگی کی دنیا و عاقبت سنوارنے کے لئے ضمانت بن سکتا ہے۔آپ إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ تُحْسِنُونَ، کہ اللہ یقیناً اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور وہ نیکیاں بجالانے والے ہوں، کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” بجر تقویٰ کے اور کسی بات سے خدا تعالیٰ راضی نہیں ہوتا۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 7 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس جب ایک مومن کا مقصود یہ ہو کہ خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے تو پھر اُس کے لئے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ تقویٰ پر چلے۔اور تقویٰ کیا چیز ہے؟ اور کن کن راستوں پر انسان تقویٰ حاصل کر سکتا ہے؟ اور ایک احمدی مسلمان کو تقویٰ پر چلنے کی کیوں ضرورت ہے؟ کیوں اس کے لئے ضروری ہے؟ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ جماعت کے افراد کے لئے تقویٰ پر چلنا اس لئے ضروری ہے کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس کے سلسلہ بیعت میں شامل ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے اور اس مامور کی بیعت میں شامل ہونے کا فائدہ تبھی ہو گا جب شامل ہونے والے جو کہ شامل ہونے سے پہلے رو بہ دنیا تھے ، ہر قسم کی برائیوں میں مبتلا تھے، ہر قسم کی برائیوں سے نجات پائیں۔اور برائیوں سے نجات بجہ تقویٰ پر قدم مارنے کے پائی نہیں جاسکتی۔آپ ایک مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جائے خواہ بیماری چھوٹی ہو یا بڑی، اگر اُس کا علاج نہ کیا جائے اور بعض دفعہ علاج بذاتِ خود ایک تکلیف دہ امر ہوتا ہے لیکن کرنا پڑتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تکلیف بڑھتی چلی جاتی ہے اور صحت نہیں ہو سکتی۔فرمایا کہ مثلاً اگر چہرہ پر سیاہ داغ بن جائے تو فکر پیدا ہوتی ہے کہ کہیں یہ بڑھتا بڑھتا پورے چہرہ کو سیاہ نہ کر دے۔اور کئی دفعہ ایسا ہوا ہے میرے پاس بھی کئی لوگ آتے ہیں اُن کے ایسے داغ پڑتے ہیں جس سے ان کو بڑی فکر ہوتی ہے۔فرمایا کہ اسی طرح تم کسی چھوٹی سے چھوٹی برائی کو بھی معمولی نہ سمجھو کہ یہ تقویٰ سے دور لے جاتی ہے اور پھر یہ چھوٹی برائی بڑا گناہ بن جاتی ہے اور دل کو سیاہ کر دیتی ہے۔اس لئے فکر کرو اور بہت فکر کرو۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جیسے رحیم و کریم ہے ویسا ہی قہار اور منتظم بھی ہے۔ایک جماعت کو دیکھتا ہے کہ اُن کا دعویٰ اور لاف گزاف تو بہت کچھ ہے اور اُس کی عملی حالت ایسی نہیں تو اُس کا غیظ و غضب بڑھ جاتا ہے۔پس اپنی عملی حالتوں کو ٹھیک کرنے کی ہر احمدی کوشش کرے اور اسے کرنی چاہئے۔