خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 378
خطبات مسرور جلد دہم 378 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء میں دکھائی گئی اُس میں وہ ٹانگ سے کچھ معذور تھا۔اس کے بعد مقدمے کی تاریخ جب آئی تو میں گورداسپور میں تھا۔کوئی شخص رخصت پر جارہا تھا یا تبدیل ہو کر جارہا تھا، اُس کو گاڑی پر سوار کرنے کے لئے چند اور لوگوں کے ساتھ آتما رام بھی آیا ہوا تھا۔میں نے اس خواب والے حلیہ کے مطابق اُس کو دیکھا اور پھر میں وہاں گیا جہاں حضرت صاحب تشریف رکھتے تھے۔دری بچھی ہوئی تھی اور احباب بیٹھے تھے۔میں بھی بیٹھ گیا۔اس وقت پھر آتما رام سٹیشن سے واپس عدالت میں آیا تو جہاں ہم بیٹھے تھے ، عدالت کے کمرے کا وہی راستہ تھا۔میں نے کسی دوست سے پوچھا کہ یہ شخص کون ہے۔اُس نے کہا کہ اس کے پاس حضرت صاحب کا مقدمہ ہے۔میں نے کہا مجھ کو اس کی شکل پہلے ہی دکھائی گئی ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 145 تا 147 روایت حضرت اللہ بخش صاحب) اور چندو لال کے بارے میں یہ بھی بتا دوں کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اللہ تعالیٰ سے اطلاع پائی تھی۔ایک دفعہ جب کسی نے کہا کہ چند ولال مجسٹریٹ کا ارادہ ہے کہ آپ کو قید کر دے تو آپ دری پر لیٹے تھے، اُٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ میں چندو لال کو عدالت کی کرسی پر نہیں دیکھتا۔چنانچہ آخر اس عہدہ سے اُس کی تنزلی ہو گئی ( نیچے چلا گیا اور ملتان میں اُس کی تبدیلی ہوگئی۔پھر پنشن پاکے لدھیانہ آگیا اور آخر انجام بھی اُس کا بڑا بھیا نک ہوا کہ پھر پاگل ہوکر وہ مرا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 2 صفحہ 286 مطبوعہ ربوہ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جب ایسے موقع آتے تھے خود بھی دعا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی بھی ہوتی تھی لیکن پھر بھی اپنے صحابہ کو یہ کہا کرتے تھے کہ دعا کرو اور پھر اگر کوئی خواب وغیرہ آئے تو وہ سن کے اُس پر اپنا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے۔حضرت مرز اغلام نبی صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میں نے بیعت کی تو حضرت صاحب کے الہامات پڑھنے کا مجھے بہت شوق تھا۔اُن دنوں اخبار زمیندار اور کئی اخباروں میں حضرت اقدس کے الہامات کے خلاف تحریریں نکلا کرتی تھیں اور میں بھی اکثر اُن کو پڑھا کرتا تھا۔اُن کے پڑھنے کا مجھ پر یہ اثر ہوا کہ الہامات کی کیفیت کے بارے میں مجھے پریشانی پیدا ہوئی۔کیونکہ جب الہامات کا ذکر ہوتا تھا یا مخالفین کے جو اخبارات تھے یہ اپنے اخباروں میں الہامات کا ذکر کرتے تھے اور پھر اس پر اوٹ پٹانگ تبصرے ہوتے تھے۔تو کہتے ہیں اس سے مجھے پریشانی پیدا ہوتی تھی۔کہتے ہیں ایک دن میں نے خدا کے حضور دعا کی کہ اے خدا! میں اس حقیقت کو نہیں سمجھ سکتا، مجھے اپنے فضل سے سمجھا۔اس کے بعد اچانک