خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 379
خطبات مسر در جلد دہم 379 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 جون 2012ء دو پہر کے وقت مجھ پر ایک نئی حالت غنودگی کی طاری ہوئی اور اس حالت میں آسمان سے ایک نیلگوں رنگ کا گھوڑا اترتا ہوا معلوم ہوا۔جوں جوں وہ زمین کے نزدیک آتا تھا اُس کا رنگ شوخ ہوتا جاتا تھا۔اُس کی گردن سے بجلی کی طرح ایک شعلہ نکلتا تھا۔میرے دل پر یہ القاء ہوا کہ یہ تمہارے مرشد کا نشان ہے۔نریب یہ روشنی زمین تک پہنچے گی اور دشمنوں کا رنگ زرد کر دے گی۔اس کے چند ماہ بعد حضرت صاحب کا روشن ستارے والا نشان جو حقیقۃ الوحی میں درج ہے، وہ نمودار ہوا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ نمبر 225 روایت حضرت مرزا غلام نبی صاحب) اس نشان کے بارے میں تھوڑ اسا مختصر ذکر میں بتا دوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں کہ: اس کے بعد جس رنگ میں یہ پیشگوئی ظہور میں آئی ( یہ روشن ستارے والی ) ” وہ یہ ہے کہ ٹھیک 31 مارچ 1907ء کو جس پر 7 مارچ سے 25 دن ختم ہوتے ہیں ایک بڑا شعلہ آگ کا جس سے دل کانپ اٹھے، آسمان پر ظاہر ہوا اور ایک ہولناک چمک کے ساتھ قریباً سات سو میل کے فاصلہ تک (جواب تک معلوم ہو چکا ہے، ( جب یہ لکھا گیا تھا) یا اس سے بھی زیادہ ) جا بجازمین پر گرتا دیکھا گیا اور ایسے ہولناک طور پر گرا کہ ہزار ہا مخلوق خدا اس کے نظارہ سے حیران ہوگئی اور بعض بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور جب ان کے منہ میں پانی ڈالا گیا تب ان کو ہوش آئی۔اکثر لوگوں کا یہی بیان ہے کہ وہ آگ کا ایک آتشی گولہ تھا جو نہایت مہیب اور غیر معمولی صورت میں نمودار ہوا اور ایسا دکھائی دیتا تھا کہ وہ زمین پر گرا اور پھر دھواں ہو کر آسمان پر چڑھ گیا۔بعض کا یہ بھی بیان ہے کہ دم کی طرح اس کے ایک حصہ میں دُھواں تھا۔اور اکثر لوگوں کا بیان ہے کہ وہ ایک ہولناک آگ تھی جو شمال کی طرف سے آئی اور جنوب کو گئی۔اور بعض کہتے ہیں کہ جنوب کی طرف سے آئی اور شمال کو گئی۔اور قریباً ساڑھے پانچ بجے شام کے اس وقوعہ کا وقت تھا۔“ (یعنی یہ وقوعہ ہوا )۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 518) تو اس طرح اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کو دعا کے بعد نشانات کی طرف اشارہ کرتا تھا اور پھر وہ نشانات ظاہر بھی ہوئے اور اس طرح یہ اُن کے ایمان میں ترقی کا باعث بنتے تھے۔پس دعاؤں کی قبولیت اور روشن نشانوں سے اللہ تعالیٰ نے اُن صحابہ کے ایمانوں کو مزید مضبوط اور صیقل کیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ دعاؤں کی حقیقت اور آداب کا جو ادراک صحابہ کو حاصل ہوا ، یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ وہ ہم میں سے ہر ایک کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیں