خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 775
خطبات مسر در جلد دہم 775 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012 ء نیک اعمال بجالانے کے لئے ہر قسم کے خوف سے دل و دماغ کو صاف رکھیں۔بلا تکلف ہر نیکی کو بجالانے والے ہوں۔ہر نیکی ہماری فطرت کا حصہ بن جائے۔ہم استقامت اور سکینت کی قوت پانے کے لئے خدا تعالیٰ کے آگے جھکنے والے ہوں۔عبادت کے ایسے معیار تلاش کرنے کی کوشش کریں جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والے ہوں۔پس یہ وہ معیار ہیں جن کو حاصل کرنے کی ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعا کرنی چاہئے۔کیا کوئی حقیقی مومن ہے جو اس کے بعد یہ سوال اُٹھائے کہ ہم شہادت کی دعا کیوں کریں؟ یہ وہ حقیقی شہادت ہے جس کے لئے ایک مؤمن کو دعا کرنا ضروری ہے تا کہ وہ حقیقی مومن بن سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے میں نے مختصراً جو باتیں کی ہیں یہ یقیناً ایسی ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک کو ان کو حاصل کرنے ، ان کو اپنانے اور زندگیوں پر لاگو کرنے کی خواہشیں کرنی چاہئیں بلکہ لاگو کرنی چاہئیں۔اور جب یہ معیار ہم حاصل کر لیں گے تو قطع نظر اس کے کہ دشمن کے حملوں اور گولیوں سے ہم جان قربان کرنے والے ہیں، دنیا کے کسی بھی پر امن ملک میں رہتے ہوئے بھی ہم شہادت کا مقام پاسکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ گزشتہ جمعہ کو جو ہیمبرگ میں پڑھا تھا میں نے اعلان کیا تھا کہ اُس دن ایک شہادت کی اطلاع آئی تھی، چونکہ کوائف نہیں تھے اس لئے جنازہ نہیں پڑھایا گیا تھا۔آج انشاء اللہ تعالیٰ جمعہ کے بعد ان شہید کا میں جنازہ پڑھاؤں گا جن کا نام مکرم مقصود احمد صاحب ابن مکرم نواب خان صاحب ہے۔17 دسمبر 2012ء کو کوئٹہ میں ان کی شہادت ہوئی تھی۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد مکرم نواب خان صاحب کی پڑدادی محترمہ بھاگ بھری صاحبہ المعروف محترمہ بھاگ بھری صاحبہ کے ذریعہ ہوا تھا۔یہ خاتون قادیان کے قریب منگل کی رہنے والی تھیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔قیامِ پاکستان کے بعد یہ خاندان ہجرت کر کے ساہیوال چلا گیا۔پھر 1965ء میں کوئٹہ چلا گیا۔مقصود صاحب کی پیدائش کوئٹہ میں ہوئی تھی۔ان کی عمر 31 سال تھی۔تعلیم ان کی مڈل تھی۔اپنے والد صاحب کے ساتھ ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے۔اسی سال نومبر میں ان کے بھائی مکرم منظور احمد صاحب کو بھی شہید کر دیا گیا تھا۔اُن کی شہادت سے پہلے مقصود صاحب صرف بلڈنگ کنسٹرکشن کی ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے اور کچھ وقت اپنے بھائی کے ساتھ اُن کی ہارڈ ویئر کی دکان تھی اُس میں لگاتے تھے۔بھائی کی شہادت کے بعد پھر انہوں نے مکمل طور پر دوکان کا کام شروع کر دیا۔واقعہ اُن کی شہادت کا اس طرح ہوا کہ 7 دسمبر صبح نو بجے مقصود صاحب اپنے ملازم کے ہمراہ