خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 774
خطبات مسر در جلد دہم 774 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء تو وہ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا کہتے ہیں۔یہ باتیں سن کر ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال نہیں دیں، بلکہ سنا اور اُس کی اطاعت کی اور یہی ایک حقیقی مومن کا طرہ امتیاز ہونا چاہئے۔بہت ساری باتیں ہیں، نصیحتیں کی جاتی ہیں، خطبات جو آپ سنتے ہیں، صرف اس لئے نہیں ہوتے کہ آپ نے سن لئے اور بس، بلکہ اُس پر عمل کرنا، سنا اور اطاعت کی، ایسا عمل جو اطاعت کا نمونہ دکھانے والا ہو۔پس جب یہ کوششیں ہوں گی تو حقیقی مومن بنیں گے اور پھر اُن رتبوں کی طرف بڑھیں گے جو شہادت کا رتبہ دلاتے ہیں۔اُن منزلوں کی طرف بڑھیں گے جو شہادت کا رتبہ دلاتی ہیں۔مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ بحث کرنا شروع کر دے کہ یہ حکم فلاں ہے اور اس حکم کی فلاں تشریح ہے،interpretation ہے۔یا حجتیں کرنی شروع ہو جائے۔یہ مومن کا کام نہیں۔پھر یہ بھی حقیقی مومن کا کام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو سنتے ہیں تو فرمایا کہ اُن کے دل کانپ جاتے ہیں۔اور پھر وہ اللہ تعالیٰ کے آگے اُن سب احکامات پر عمل کرنے کی طاقت مانگتے ہوئے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں بڑھتے چلے جانے والا بھی ایک حقیقی مومن ہے۔(صحیح بخاری کتاب الایمان باب حب الرسول العالم من الايمان حديث : 15) پس یہ خصوصیات ہیں جو اس زمانہ میں مومن کی ہونی چاہئیں۔بلکہ اس زمانے میں جیسا کہ شرائط بیعت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع میں آپ کے کام کو جاری رکھنے کے لئے آپ کے عاشق صادق مسیح موعود جن کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں مبعوث فرمایا ہے، اُن کے ساتھ بھی تعلق سب دنیاوی تعلقوں سے زیادہ ہونا چاہئے۔(ماخوذ از ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر 3 صفحہ 564) پس یہ خصوصیات ہیں جو جیسا کہ میں نے کہا ایک مومن کی ہونی چاہئیں اور یہ خصوصیات ہوں تو چاہے وہ انسان طبعی موت مر رہا ہو شہادت کا رتبہ پاتا ہے۔پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ یہ رتبہ پانے کے لئے خدا تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین پیدا کریں۔روز جزا پر کامل یقین پیدا کر یں۔اپنے ہر عمل میں اس بات پر یقین رکھیں۔ہر عمل کرتے ہوئے اس بات پر یقین رکھیں کہ خدا تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر سختی کو جھیلنے کے لئے اُس سے مدد مانگیں۔ایسی قوت ایمانی خدا تعالیٰ سے مانگیں جو بطور نشان کے ہو جائے۔ایمان کو اتنا مضبوط کریں کہ کوئی دنیاوی لالچ ، کوئی خواہش ہمارے ایمان میں لغزش پیدا نہ کر سکے۔