خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 776
خطبات مسرور جلد دہم 776 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء اپنی ہارڈویئر کی دوکان واقع سیٹلائٹ ٹاؤن پہنچے اور ملازم کو دکان پر بٹھا کر اپنے دو بچوں کو سکول میں جو سیٹلائٹ ٹاؤن میں تھا، چھوڑنے گئے۔بچوں کو سکول چھوڑ کر واپس نکلے ہی تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد آئے اور ان پر فائرنگ کردی۔فائرنگ کے نتیجہ میں شہید مرحوم کو پانچ گولیاں لگیں جن میں سے چار گولیاں سر میں اور ایک گولی کندھے پر لگی۔انہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستہ میں ہی جامِ شہادت نوش فرما گئے۔إِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔جیسا کہ میں نے بتایا گزشتہ ماہ ان کے بڑے بھائی کو شہید کیا گیا تھا۔2009ء میں ان کو اغواء بھی کیا گیا تھا اور بارہ دن کے بعد بڑا بھاری تاوان لے کر ان کی بازیابی ہوئی تھی۔مرحوم خدمت خلق کا بیحد شوق رکھتے تھے۔جب بھی میڈیکل کیمپ لگائے جاتے شہید مرحوم نہ صرف اس میڈیکل کیمپ کے لئے اپنی گاڑی مہیا کرتے بلکہ خود ڈرائیو کر کے ساتھ جاتے۔اسی طرح دعوت الی اللہ کے پروگراموں میں ساتھ جاتے اور اپنی گاڑی بھی پیش کرتے۔کوئٹہ میں آنے والے مربیان کا بہت زیادہ خیال رکھتے ، ان کی خدمت کر کے خوشی محسوس کرتے۔سیکیورٹی کی ڈیوٹی بڑے شوق سے دیا کرتے تھے۔جمعہ کی ڈیوٹی خاص طور پر دیا کرتے۔صدر صاحب سیٹلائٹ ٹاؤن کوئٹہ نے بتلایا ہے کہ شہید مرحوم نہایت مہمان نواز ، کم گو ، خوش اخلاق، حلیم الطبع اور سادہ طبیعت کے مالک تھے۔کبھی کسی سے ناراض نہ ہوتے اور نہ ہی کسی کو ناراض ہونے کا موقع دیتے۔بعض اوقات مخالفین بھی اگر سخت لہجے میں بات کرتے تو اُن کی بات کو ہنس کر ٹال دیتے لیکن یہ نہیں تھا کہ محسوس نہیں کرتے تھے۔گھر آ کر اُن کی باتیں بتاتے ہوئے رو بھی پڑا کرتے تھے کہ فلاں فلاں مخالفین نے مجھے آج اس طرح کہا ہے۔صدر صاحب کہتے ہیں شہادت سے تین دن قبل مجھے فون کیا اور کہا کہ اب تک میرا چندہ کیوں نہیں لیا۔اُسی روز اپنا چندہ مکمل طور پر ادا کیا۔بیوی بچوں سے انتہائی پیار کا تعلق تھا۔بیوی بچوں سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی۔اپنے والدین کے علاوہ اپنی اہلیہ کے والدین کی بھی نہایت عزت کیا کرتے تھے۔ہر طرح سے خیال رکھنے والے تھے۔ان کے والد نواب خان صاحب کے علاوہ اہلیہ محترمہ ساجدہ مقصود صاحبہ اور ایک بیٹا مسرور ہے جس کی عمر نو سال ہے۔بیٹی مریم مقصود کی عمر سات سال ہے۔ان کی دو بہنیں ہیں اور ان کی اپنی والدہ تو وفات پا گئی تھیں۔ان کی دوسری والدہ تھیں، والد نے دوسری شادی کر لی تھی۔معلم سیٹلائٹ ٹاؤن ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ بڑے سادہ مزاج تھے۔مہمان نوازی ان کے گھر کا ایک عظیم خلق ہے۔مربیان اور معلمین کی دل سے قدر کرتے تھے، بہت عزت سے پیش آتے تھے۔