خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 763 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 763

خطبات مسرور جلد و هم 763 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء بلکہ ہر سال با وجود مخالفت کے لاکھوں کی تعداد میں بیعت کر کے جولوگ احمدیت میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں اور اُن ملکوں میں بھی بیعتیں ہو رہی ہیں جہاں مخالفت بھی زوروں پر ہے تو یہ سب چیزیں ترقی اور فتوحات ہی ہیں جس کے نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔اسی طرح جماعت جو دوسرے پروگرام کرتی ہے اور اسلام کی خوبصورت تصویر پیش کر کے غیر اسلامی دنیا کے شکوک و شبہات دور کر رہی ہے۔یہ جو بات ہے یہ کامیابیوں اور فتوحات کی طرف قدم ہی تو ہیں جو جماعت احمدیہ کے اُٹھ رہے ہیں جو ایک وقت میں آ کر انشاء اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک غیر معمولی انقلاب پیدا کریں گے اور اس کے لئے ہر احمدی کو کوشش بھی کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے۔بہر حال بڑے مقاصد کے حصول کے لئے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں، جان کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے اور جماعت احمدیہ کے افراد جہاں بھی ضرورت ہو، ہر قسم کی قربانیاں دیتے ہیں اور اس کے لئے تیار بھی رہتے ہیں۔اس میں جان کی قربانی بھی ہے جو ان قربانی کرنے والوں کو شہادت کا رتبہ دلا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں یہ لوگ داخل ہورہے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ شہادت صرف اسی قدر نہیں ہے، شہید کا مطلب صرف اسی قدر نہیں ہے، اس کی گہرائی جاننے کے لئے اُن نوجوان سوال کرنے والوں کو ضرورت ہے اور بڑوں کو بھی ضرورت ہے، تا کہ شہادت کے مقام کے حصول کی ہر کوئی کوشش کرے۔اس دعا کی روح کو سمجھے اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جنتوں میں داخل ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت ابو ہریرہ کو فرمایا کہ اگر صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں مارے جانے والے ہی شہید کہلائیں گے تو پھر تو میری اُمت میں بہت تھوڑے شہید ہوں گے۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب بيان الشهداء، حدیث 1915) مسلم کی ایک حدیث ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص صدق نیت سے شہادت کی تمنا کرے، اللہ تعالیٰ اُسے شہداء کے زمرے میں داخل کرے گا خواہ اُس کی وفات بستر پر ہی کیوں نہ ہو۔(صحیح مسلم کتاب الامارة باب استحباب طلب الشهادة في سبيل الله تعالیٰ، حدیث 1909) بدر کے موقع پر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اُس کے عہد کا واسطہ دے کر فتح مانگی تھی۔اُن مسلمانوں کی زندگی مانگی تھی جو آپ کے ساتھ بدر کی جنگ میں شامل تھے۔جان قربان کر کے شہادت پانا نہیں مانگا تھا۔عرض کیا تھا کہ اگر یہ مسلمان ہلاک ہو گئے تو پھر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔(صحیح مسلم كتاب الجهاد و السير باب الامداد بالملائكة فى غزوة بدر۔۔۔حديث: 1763)