خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 762
خطبات مسرور جلد دہم 762 50 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 دسمبر 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 14/ دسمبر 2012 ء بمطابق 14 فتح 1391 ہجری شمسی بمقام بیت السبوح_فرینکفرٹ (جرمنی) تشہد وتعوذ وسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: عام طور پر شہید کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان ہو جائے۔بیشک ایسا شخص جو خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتا ہے، شہید کا مقام پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیتا ہے۔لیکن شہید کے معنی میں بہت وسعت ہے۔یہ معنی بہت وسعت لئے ہوئے ہے، اور بھی اس کے مطلب ہیں۔اس لئے آج میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات اور بعض احادیث کے حوالے سے اس بارے میں کچھ کہوں گا۔یہاں ان ممالک میں پلنے اور بڑھنے والے بچے اور جوان یہ سوال کرتے ہیں، کئی دفعہ مجھ سے سوال ہو چکا ہے۔گزشتہ دنوں ہیمبرگ میں واقفات ٹو کی کلاس تھی تو وہاں بھی غالباً ایک بچی نے سوال کیا کہ جب آپ شہداء کے واقعات بیان کرتے ہیں تو اکثر کے واقعات میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ وہ اپنے قریبی عزیزوں کو کہتے ہیں کہ دعا کرو کہ میں شہید ہو جاؤں یا شہید کا رتبہ پاؤں یا شہادت تو قسمت والوں کو ملا کرتی ہے۔تو شہید ہونے کی دعا کے بجائے سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ دشمن پر فتح پانے کی دعا کا کیوں نہیں کہتے اور یہ کیوں نہیں کرتے ؟ یقینا دشمن پر غلبہ پانے کی جو دعا ہے یہی اول دعا ہے اور الہی جماعتوں سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ غلبہ انہی کو حاصل ہونا ہے۔فتوحات انہی کی ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی متعدد مرتبہ اللہ تعالیٰ نے کامیابی اور فتوحات کی اطلاع دی اور غلبہ کی خبر دی۔اور ہمیں یقین ہے کہ اس کے واضح اور روشن نشانات بھی جماعت احمد یہ دیکھے گی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے آثار بھی ہم دیکھ رہے ہیں