خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 756 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 756

خطبات مسرور جلد دہم 756 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012 ء میں نے پہنا ہوا ہے۔نامعلوم کس طرح پہنچا، کس وقت پہنا، نا گہاں اُس کو اپنے جسم کے اوپر پہنا ہوا دیکھتا ہوں جس کا اثر آج تک میں اپنے اوپر محسوس کرتا رہتا ہوں۔اسی طرح ایک دفعہ خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ صحابہ کرام میں سے ہے۔خواب کے بعد معلوم ہوا کہ یہ خواب آپ کے یعنی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اُس شعر کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی کے اُس کو مولیٰ نے پلادی چنانچہ وہ شخص جو مجھ کو ملا اس نے اپنے اوپر کھیں لیا ہے جس کا کنارہ سرخ ہے۔میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کھیں تم نے کہاں سے لیا ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔میں نے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رحلت فرما گئے ہیں۔غالباً چودہ سو سال ہو گئے ہیں۔آپ کو وفات ہوئے۔وصال ہوئے ) اُس نے جواب دیا کہ مجھ کو بہر حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دیا ہے۔یا یہ کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی لیا ہے۔صرف اس فقرے میں اختلاف ہے۔بہر حال یہ تو لفظ کہتے ہیں اچھی طرح یاد ہے۔میں نے کہا کہ بتاؤ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی حفاظت کون کرتا ہے؟ اُس نے کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی حفاظت مسجد کے منڈے کرتے ہیں۔خاکسار نے پوچھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کا کیا حال ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ بیویوں کا کیا حال پوچھتے ہو، کچھ تو اُن میں سے دلی پہنچ گئی ہیں۔اُس وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ حضرت اُم المومنین حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ دتی کے رہنے والے ہیں۔کہتے ہیں کہ گویا اللہ تعالیٰ نے روحانی اور جسمانی طور پر تسلی دلا دی کہ یہ قرآن کریم کے مطابق سلسلہ ہے جیسا کہ وَآخَرِین میں فرمایا گیا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 156-157 روایت حضرت خیر دین صاحب) خیر دین صاحب کی ہی ایک روایت ہے اور وہ کہتے ہیں ایک دن خاکسار نے خواب میں مسجد اقصیٰ کو دیکھا، مگر اس طرح دیکھا کہ اُس کے پاس ہی بیت اللہ ہے۔ان دونوں کی شکل ایک ہی جیسی ہے۔میں پہچان نہیں سکتا کہ قادیان والی مسجد اقصیٰ کونسی ہے اور بیت اللہ کونسا ہے۔ان دونوں چیزوں کی شکل مجھ پر مشتبہ ہوگئی ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس کو مسجد اقصیٰ کہوں یا اُس کو کہوں۔غرض یہ دونوں چیزیں مجھ پر مشتبہ ہو گئیں اور میری آنکھ کھل گئی۔اُس کی تعبیر دل میں یہ ڈالی گئی کہ یہ وہی سلسلہ ہے جو اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بہم (الجمعة: 4) کا مصداق ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 158 روایت حضرت خیر دین صاحب)