خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 755
خطبات مسر در جلد دہم 755 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012ء زیادہ سے زیادہ سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہئے اور اس کے ہر ہر لفظ پر غور کرنا چاہئے۔حضرت محمد فاضل صاحب ولد نور محمد صاحب فرماتے ہیں جنہوں نے 1899ء کے آخر یا 1900ء کے ابتدا میں بیعت کی تھی کہ پہلے رسم و رواج کے مطابق نماز میں زیر ناف ہاتھ باندھتا تھا ( یعنی عموماً جسے غیر از جماعت لوگ نماز پڑھتے ہوئے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں ) اور کبھی کسی کی اقتداء میں نماز باجماعت پڑھنے کا موقع ملتا تو دل میں کبیدگی سی پیدا ہوتی اور فاتحہ خلف امام بھی پڑھ لیتا۔(امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھتا تھا لیکن دل میں اضطراب رہتا تھا۔( کہ فاتحہ خلف امام اور سینہ پر ہاتھ باندھیں یا کس طرح باندھیں؟ ان دونوں باتوں کے بارہ میں تسلی نہیں تھی کہ ہاتھ اوپر کر کے باندھنے چاہئیں یاناف سے نیچے رکھنے چاہئیں ، اور سورۃ فاتحہ پڑھنی چاہئے یا نہیں پڑھنی چاہئیے ؟) تو کہتے ہیں اسی حالت اضطراب میں ایک دن میں سو گیا تو خواب میں میں قادیان پہنچا ہوں۔مسجد مبارک والی گلی سے جاتا ہوں۔میں مسجد اقصیٰ کے دروازے پر پہنچا اور پہلے جو سیڑھیاں سیدھی تھیں، اُن پر گزر کر اندر داخل ہوتا ہوں تو حد مسجد سے باہر جوتیوں والی جگہ ایک پھلا ہی کا درخت ہے، ( یہ ایک پودے کی قسم ہے ) اور اُس کے پاس یا نیچے ایک پختہ قبر ہے اور اُس کی شمالی سمت میں ایک کنواں ہے اور مسجد میں ایک جماعت مکمل سینہ پر ہاتھ باندھ کر کھڑی ہے اور مصلی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام امام ہیں اور امام کے مقابل ایک مقتدی کی جگہ خالی ہے۔میں اُس جگہ جا کر کھڑا ہو گیا ہوں اور سینہ پر ہاتھ باندھ کر سورۃ فاتحہ شروع کی ہے۔جب ختم کر کے آمین کہتا ہوں تو میری نیند کھل گئی۔اس طرح مجھے یہ مسئلہ حل ہو گیا کہ ہاتھ یہاں باندھنے چاہئیں درمیان میں اور سورۃ فاتحہ بھی پڑھنی چاہئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 231 روایت حضرت محمد فاضل صاحب) حضرت خیر دین صاحب ولد مستقیم صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ خاکسار نے رویا میں دیکھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی لوگوں کی دعوت فرمائی ہے اور اس دعوت کا کام حضرت اُم المومنین کر رہی ہیں اور حضرت اقدس بھی نگرانی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔جب میں پیغام کے طور پر حاضر ہوا تو جناب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اس کو چاول کھلاؤ۔چنانچہ مجھے چاول دیئے گئے۔ایک اور بات ہے مگر یہ اچھی طرح یاد نہیں کہ اسی دعوت والی خواب کے ساتھ ہی ہے یا علیحدہ ،مگر وہ بات مجھے خوب یاد ہے۔اور وہ یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اس کو کر نہ پہناؤ۔چنانچہ اس بات کے فرمانے کے بعد میں فوراً اپنے جسم کی طرف دیکھتا ہوں کہ ایک بڑا خوبصورت سفید رنگ کا کرتہ