خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 754
خطبات مسرور جلد دہم 754 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012 ء اچانک یہ حالت ہونے لگی۔اسی طرح مسجد دکھائی دینے لگی۔اسی طرح لوگ، اُسی طرح حضرت اقدس دکھائی دینے لگ گئے۔کہتے ہیں یہی نور جو اُس وقت خاکسار نے حضرت اقدس کے ارد گرد دیکھا جو اس وقت ایک ستارے کی شکل میں تھے برابر گیارہ دن حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو اس حالت میں ہر وقت دیکھتا رہا۔جدھر آپ جاتے تھے ادھر ہی وہ نور دائیں بائیں آگے پیچھے رہتا تھا۔میں جس حالت میں ہوتا تھا، اُسی حالت میں حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی کو اُس نور کے اندر دیکھتا تھا۔خواہ میں گھر میں ہوتا یا با ہر کام کر رہا ہوتا یا یونہی بیٹھا ہوتا۔کھانا کھا رہا ہوتا یا با تیں کر رہا ہوتا۔( مختلف وقتوں میں ان پر یہ کشفی حالت طاری ہوتی رہتی تھی ) کہ وہ نور اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی " مجھے دکھائی دیتے ہی رہتے۔کہتے ہیں یہ نظارہ متواتر گیارہ دن تک دیکھتا رہا۔ایسا کشف نہ میں نے کبھی سنا ہے نہ کبھی اتنا لمبا دیکھا ہے۔یہ صرف اور صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت اور نور نبوت کا اثر ہے کہ میرے جیسے معمولی انسان بھی اس قدر بڑے اور اتنے اتنے لمبے کشف دیکھتے ہیں۔یہ کشف بھی گویا اس آیت کریمہ کے ماتحت ہے جس میں کہ لکھا ہے کہ پاک اور نیک لوگوں کو ایک نور ملے گا جیسا کہ سورۃ تحریم کی یہ آیت فرمائی ہے، نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيمانهم (التحریم: 9) - دوسری آیت شریف میں یہ ہے کہ جس کو اس دنیا میں نور نہیں ملتا اُس کو قیامت میں کیونکر ملے گا۔گویا خدا تعالیٰ نے مجھے یہ بتایا کہ یہ تمہارا خلیفہ اُن برگزیده لوگوں میں سے ہے جن کو کہ قیامت کے دن نور ملے گا۔اور اس دنیا میں بھی یہ شخص اپنے خدا کے نور میں ہی رہتا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 158 - 159 روایت حضرت خیر دین صاحب) حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فرماتے ہیں جن کی بذریعہ خط جنوری 1902ء کی بیعت ہے اور دسمبر 1902ء میں دستی بیعت کی۔کہتے ہیں ”مجھے دکھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوفرشتے میری محافظت پر مقرر کئے ہیں۔ایک کا نام محمد صدیق ہے اور میرے والد صاحب کی شکل پر ہے، اور دوسرے کا نام غلام صمدانی ہے۔مصائب اور تکالیف کے وقت پھر فرشتہ سامنے متشکل ہو کر نظر آتا ہے اور والد نے کہا کہ دو بار کم از کم الْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحه : 2) پڑھا کرو۔جس پر میں ہر نماز میں عمل کرتا ہوں۔(رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 7 صفحہ 201 روایت حضرت قاضی محمد یوسف صاحب) یعنی نماز میں الحمدُ للهِ رَبّ الْعَلَمِينَ ، اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِيْن جو ہے وہ دو دفعہ پڑھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے ناں کہ حقیقی تعریف کے لائق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ حمد ہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے، اس سے تعلق پیدا کرنے کے لئے، مشکلات دور کرنے کے لئے