خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 753
خطبات مسرور جلد دہم 753 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 7 دسمبر 2012 ء حاضر ہو کر دستی بیعت بھی کر لی۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ حضور کی شبیہ مبارک بالکل ویسی ہی تھی جیسی کہ میں نے خواب میں دیکھی تھی۔اس کے کچھ عرصہ بعد اتفاقا میں اُس مہمان خانے میں اترا ہوا تھا جس میں اب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سکونت پذیر ہیں۔( یہ گھر مسجد اقصیٰ کے قریب ہی ہے)۔کہتے ہیں میں ایک چار پائی پر بیٹھا تھا کہ سامنے چھت پر غالباً کسی ذرا اونچی جگہ پر حضور آ کر تشریف فرما ہوئے۔نہا کر آئے تھے، بال کھلے ہوئے تھے۔جسم نگا تھا۔یہ شکل خصوصیت سے مجھے ویسے ہی معلوم ہوئی جو میں خواب میں دیکھ چکا تھا۔اور مجھے مزید یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ نے میری ہدایت کے لئے مجھے دکھلایا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) جلد 4 صفحہ 138 - 139 روایت حضرت منشی برکت علی صاحب) حضرت خیر دین صاحب ولد مستقیم صاحب فرماتے ہیں۔( ان کا بیعت کا سن 1906 ء ہے اور زیارت بھی 1906ء میں کی ) کہ ایک دن نیند میں خاکسار نے آسمان سے ایک آواز سنی کہ نورالدین کا نام فرشتوں میں عبد الباسط ہے۔یہ واقعہ بھی حضرت خلیفہ اُسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں عرض کیا۔آپ نے ہنستے ہوئے ( یہ حضرت خلیفہ اول کے بارے میں ہے ) فرمایا کہ مجھے بھی معلوم ہے کہ میرا نام عبد الباسط ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 7 صفحہ 157-158 روایت حضرت خیر دین صاحب) حضرت خیر دین صاحب ولد مستقیم صاحب ہی کی روایت جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔(پہلے میں نے بتا دیا ہے کہ انہوں نے 1906 میں بیعت کی ہے۔) کہتے ہیں جب آپ نے خلعت خلافت پہنا اور حضور نے ابتدائی تقریر مسجد مبارک میں شروع کی تو اُس وقت آپ کی ران مبارک پر پھوڑا تھا اس لئے آپ کے لئے کرسی لائی گئی۔چنانچہ آپ نے تقریر شروع کی۔اُس وقت خاکسار سیڑھیوں کے سامنے مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔تمام مسجد بھری ہوئی تھی۔اُس وقت میری حالت نہ نیند میں تھی نہ اونگھ میں، بلکہ میں اچھی طرح بیداری کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔دیکھتا کیا ہوں کہ سورج کی روشنی بدل کر کوئی اور ہی روشنی آگئی ہے۔وہ روشنی ایسی لذت اور سرور والی ہے کہ جس کی کیفیت بیان نہیں ہوسکتی۔اُس کے سرور اور لذت کا میں اندازہ نہیں کرسکا۔دیکھتے دیکھتے سجد کا وجود بھی جاتارہا اور مجلس بھی غائب ہو گئی۔صرف حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا وجود آنکھوں کے سامنے ایک ستارے کی طرح بنا ہوا نظر آتا ہے جو اس نور میں گھوم رہا ہے۔بہت دیر تک یہی حالت دیکھتا رہا مگر کس حالت میں نہ نیند ہے نہ اونگھ ، بلکہ ٹھیک طرح مجلس میں بیٹھا بھی ہوا ہوں اور یہ نظارہ روحانی بھی دیکھ رہا ہوں۔کچھ دیر کے بعد