خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 739 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 739

خطبات مسر در جلد دہم 739 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء پیر صاحب کے لڑکے سے دریافت کیا کہ حضرت کہاں ہیں؟ تو اُس نے رو کر جواب دیا کہ وہ مرشد جو تھے ان کے وہ دو ماہ سے فوت ہو گئے ہیں اور ہم آپ کو اُن کی فوتیدگی کی اطلاع دینی بھول گئے، معاف فرمائیں۔کہتے ہیں مجھے بڑا رنج ہوا اور صدمہ ہوا۔میں روتا دھوتا گھر کو چلا آیا۔ایک دن پھر مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم خواندہ آدمی ہو، پڑھے لکھے آدمی ہو۔حضرت صاحب کی تصنیفات دیکھنی چاہئیں۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو تحریرات ہیں، کتابیں ہیں، وہ دیکھنی چاہئیں۔انہوں نے اُسی وقت مجھے ایک کتاب جس کا اسم شریف جلسہ مذاہب مہوتسو ہے، پڑھنے کو دیا۔وہ میں نے سارا ختم کیا اور پھر انہوں نے مجھ کو براہین احمدیہ ہر چہار جلد دیں۔جب میں نے ساری ختم کر لیں تو معاً میرے دل میں بات ڈالی گئی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہ کوئی ایسا لائق شخص ہوا ہے اور نہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسی کتاب شائع کی ہے جو تمام غیر مذاہب کو اسلام کی حقانیت پر دعوت دے۔کہتے ہیں اس کے بعد میرا دل تذبذب میں پڑ گیا۔دل میں یہ بات پیدا ہو گئی کہ اگر یہ شخص جس نے ایسی چیز دنیا کے سامنے پیش کی ہے سچا ہے تو اگر میں نے بیعت کر لی تو بچے کی بیعت کی اور اگر خوانخواستہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہوا تو ایک کا ذب کی بیعت میں داخل ہوں گا۔لہذا یہ خیال ایسا پ کا دل میں گڑھ گیا کہ دو ماہ تک اس پر اڑا رہا۔مولوی صاحب مجھ کو ہر چند سمجھا وہیں لیکن دل نہ مانے۔ایک دن ماہِ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ کو میں نے خدا تعالیٰ سے بڑے خشوع و خضوع سے یہ دعا کی کہ اے زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے! بواسطه محمدصلی اللہ علیہ وسلم ،اگر یہ شخص یعنی مرزا صاحب سچا ہے اور تو نے ہی مامور کر کے دنیا کی اصلاح کے لئے نازل فرمایا ہے تو تو اپنی ستاری سے مجھ کو کوئی نشان ظاہری یا کسی خواب کے ذریعے دکھا دے۔اگر مجھ کو کوئی نشان نہ دکھا یا تو پھر مجھ پر قیامت کے دن تیری کوئی حجت نہ رہے گی، کیونکہ مجھ میں اتنی قوت نہیں کہ سچے اور جھوٹے میں امتیاز کر سکوں اور بس۔جب پندرہ رمضان گزرے تو بعد تہجد میں جائے نماز پر لیٹ گیا تو خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں اور میرے ساتھ ایک اور آدمی کسی شہر کو چلے ہیں۔راستے میں ہم کو ایک باغ نظر آیا جو چار دیواری اُس کی قریباً تین فٹ اونچی ہے۔(باغ کی چار دیواری تین فٹ اونچی ہے ) اُس دیوار کے پاس جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ باغ گویا بہشت کا نمونہ ہے اور نہریں جاری ہیں لیکن پانی خشک تھوڑا تھوڑا چلتا نظر آ رہا ہے اور عالی شان محل دکھائی دیئے۔ہم نے ارادہ کیا کہ باغ کے اندر جا کر سیر کریں لہذا ہم دونوں چار دیواری پھاند کر اندر جانا چاہتے تھے۔لیکن ہم نے بہت زور کیا لیکن چاردیواری کو پھاند کر اندر نہ پہنچے۔پھر ہم نے پختہ ارادہ کر لیا۔( یہ اپنی خواب سنارہے ہیں بڑی لمبی خواب ہے ) کہ ضرور اندر جانا ہے۔چلواب