خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 740
خطبات مسرور جلد دہم 740 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 نومبر 2012ء اس کا دروازہ معلوم کریں۔پھر ہم تین طرف باغ کے پھرے۔یعنی جنوب و مغرب اور شمال اور ان تینوں طرف سے ہم کو کوئی دروازہ نہ ملا۔پھر ہم نے کہا کہ چلو مشرق کی طرف چلیں شاید اُس طرف سے ہم کو دروازہ مل جائے۔جب باغ کے مشرق کی جانب روانہ ہوئے تو ہم کو ایک بزرگ ایک درخت کے سائے میں بیٹھے نظر آئے اور وہ بزرگ اپنے ہاتھ کے اشارے سے ہم کو پکار رہے تھے کہ ادھر آؤ ہم تم کو اس کا دروازہ بتلا دیں اور اگر ہماری طرف نہ آؤ گے تو تم کو تمام عمر دروازہ باغ کا نہ ملے گا۔جب ہم اس بزرگ کے پاس پہنچے تو معا مجھ کو وہ خواب جو عرصے سے امرتسر میں آئی تھی وہ یاد آ گئی کہ اس بزرگ کو میں نے تخت پر رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خواب میں دیکھا تھا۔(اس دوسری خواب میں دوسرے آدمی کو جو دیکھا تھا یہ بزرگ تھے۔چنانچہ میں نے پوچھا کہ حضرت آپ کون بزرگ ہیں؟ تو آپ نے اپنی زبانِ مبارک سے یہ فرمایا کہ میں ابن مریم ہوں اور وہ دیکھو باغ کا دروازہ ہے۔جاؤ سیر کرو۔چنانچہ ہم دونوں باغ کے اندر چلے گئے اور خوب سیر کی۔اتفا قا مجھ کو پیاس لگی اور میں نے اپنے ساتھی کو کہا کہ ہم کو پیاس لگی ہے اور پانی نہروں کا بہت ہی نیچے ہے۔ہاتھ نہیں پہنچتا، کیا کریں؟ ہم تھکے ہوئے ماندہ ہوکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک لڑکا کوئی دس بارہ سال کی عمر کا ایک محل سے برآمد ہوا۔اُس کے ہاتھ میں ایک پیالہ بیضوی شکل تھا اوول جیسا اور اس میں کوئی چیز تھی ، میرے ہاتھ پر لا کر رکھ دیا اور کہا کہ لو تم اس کو پی لو۔چنانچہ مجھ کو پیاس تو تھی میں نے اس سے پیالہ لے کر کوئی نصف کے قریب پی گیا اور باقی ماندہ اپنے ساتھی کو دیا۔اُس لڑکے نے اُس کے ہاتھ سے پیالہ چھین کر مجھ کو دے دیا اور کہا کہ یہ تمہارا حصہ ہے اس کا اس میں حصہ نہیں۔یعنی دوسرے شخص کا جو خواب میں ان کے ساتھ تھا اس کا اس میں حصہ نہیں ہے۔چنانچہ اس بات سے میراساتھی شرمندہ سا ہو کر کہنے لگا کہ چلو بہت دیر ہو گئی ہے۔ہم نے ابھی دور جانا ہے۔پس ہم جلدی جلدی دروازے کی طرف آئے۔میرا ساتھی جلدی سے دروازے کے باہر چلا گیا اور میں ابھی اندر ہی تھا کہ ہمارے مولوی صاحب کا لڑکا آیا اور مجھ کو جگا کر کہنے لگا کہ کیا باعث ہے آپ تہجد کے بعد منزل قرآن شریف کی پڑھنے سے آج سو گئے۔میں نے اُس کو خفا ہو کر کہا کہ میں ایک عمدہ خواب دیکھ رہا تھا۔تم نے برا کیا جو جگا دیا۔اُس نے جواب دیا کہ بندے خدا ! صبح کی اذان ہوگئی ہے اور مولوی صاحب مسجد میں جماعت کا انتظار کر رہے ہوں گے۔چلونماز پڑھیں۔کہتے ہیں لہذا ہم دونوں مسجد میں چلے گئے اور وضو کر کے مولوی صاحب کے ساتھ نماز باجماعت پڑھی۔بعد فراغت نماز میں نے یہ تمام حالات خواب کے اور جس طرح سے خدا تعالیٰ سے دعا مانگی تھی اور جس طرح سے خدا نے مجھ کو خواب میں تمام