خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 720 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 720

خطبات مسرور جلد دہم 720 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء تو یہ رد عمل تھا اُن صحابہ کا جن کی طرف ہم اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔اور آج یہ لوگ مخالفین کے ساتھ مل کر اسلامی حکومتوں کے خلاف منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پھر مسلمان بھی ہیں۔ہاں ایک بات پر ان علماء کا یا نام نہاد علماء کا یا اُس طبقہ کا جو شر پھیلانے والا ہے، اتفاق ہوتا ہے اور وہ مسیح محمدی کی قائم کردہ جماعت کے خلاف منصوبہ بندی یا احمدیوں کو جو لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ پر دل و جان سے ایمان اور یقین رکھتے ہیں، زبر دستی دائرہ اسلام سے خارج کرنا ہے۔ان لوگوں کو ذرا بھی یہ خوف نہیں کہ جس نبی کا کلمہ یہ پڑھتے ہیں یا دعوی کرتے ہیں، جس کے لئے جان و آبرو قربان کرنے کا دعوی کرتے ہیں اُس کے اس ارشاد پر بھی ذرا غور کریں۔اس کی ذرہ بھی پرواہ نہیں کرتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا۔یہ ایک اصولی حکم ہے اور صرف ایک صحابی کے لئے نہیں تھا کہ کیا تم نے لوگوں کے دل چیر کے دیکھے ہیں کہ یہ دل سے کلمہ پڑھتے ہیں یا اوپر سے اور کسی خوف کی وجہ سے؟ (صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریک فضل الکافر بعد قوله لا اله الا الله حدیث : 278 کاش کہ یہ لوگ سمجھ جائیں۔علماء کہلانے والے اپنے نام نہاد علم کے دعوئی کے خول سے باہر آئیں۔عوام الناس کو گمراہ کرنے کے بجائے اُنہیں انصاف اور حق بتانے کی کوشش کریں اور اُس جری اللہ کے ساتھ منسلک ہو کر تمام فرقہ بندیوں کا خاتمہ کر کے ظلم و تعدی کو ختم کریں۔اور مذہبی جنگوں کے تصور کو ختم کر کے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو مسیح الزمان کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق پھیلا کر دشمن کی طاقت کو ختم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے والے بن جائیں۔محترم کے حوالے سے میں نے بات شروع کی تھی تو اس وقت میں اُس مسیح الزمان اور مہدی دوراں کے چند حوالے آپ کے سامنے پیش کروں گا تا کہ لاکھوں کی تعداد میں اُن احمدیوں کے سامنے یہ بات آ جائے ، وہ احمدی بھی سن لیں جو نئے شامل ہونے والے ہیں اور وہ بھی جو نو جوان ہیں اور علم نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کس طرح بزرگوں کی عزت کو قائم کیا، کس طرح صحابہ کے مقام کو پہچانا، کس طرح شیعہ سنی کے فرق کو مٹایا اور کس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تمام مسلمانوں کو جو روئے زمین پر بستے ہیں ایک ہاتھ پر جمع کر کے امت واحدہ بنانے کے طریق سکھائے۔اسی طرح غیر از جماعت جو بعض دفعہ ہمارے خطبات سنتے ہیں، باتیں سنتے ہیں، اُن کو بھی پتہ چلے کہ اس زمانہ میں رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کی حقیقی تصویر بننے کے لئے سچی تعلیم کیا ہے۔کچھ غور کریں کہ کب تک مسلمانوں کی کمزور حالت کا رونا رو کر ، صرف ظاہری جلسے جلوس کر کے یا پھر دہشت گردی کر کے اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کا فرض