خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 721
خطبات مسرور جلد دہم 721 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء اور حق ادا کرنے والا سمجھتے رہیں گے۔کب تک دشمن کو اپنی بے نتیجہ اور ظالمانہ کارروائیاں کر کے اسلام پر حملے کرنے کے مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔پس چاہے مسلمان ممالک کی بدامنی اور بے سکونی اپنے ملکوں میں ایک دوسرے پر ظلم کی وجہ سے ہو یا اسلام دشمن طاقتوں کے مسلمانوں پر ظلم کرنے کی وجہ سے ہو، اس کا حل اور قیامِ امن کا علاج اور مسلمانوں کے رعب کو دوبارہ قائم کرنے کی طاقت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے اُس فرستادہ کے پاس ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق صادق اور آپ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کے مشن کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا آپ کے چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جو تمام صحابہ کے مقام پر روشنی ڈالتے ہیں۔اس وقت مسلمانوں نے اگرا اپنی اکائی منوانی ہے، اپنی ساخت کو قائم کرنا ہے، اسلام کو غیروں کے حملوں سے بچانا ہے، دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے تو پھر شیعہ سنی کے فرق کو مٹانا ہو گا۔آپس کے فرقوں کے گروہ بندیوں کے فرق کو مٹانا ہوگا۔اُس اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا ہو گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے جس میں کوئی فرقہ نہیں تھا۔جس میں ہر صحابی قربانی کی ایک مثال تھا۔نیکی اور تقویٰ کا نمونہ تھا۔ایسا ستارہ تھا جس سے روشنی اور رہنمائی ملتی تھی۔لیکن بعض کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک دوسروں سے بلند بھی تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقام کو اللہ تعالیٰ نے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بلندی دی ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتی۔اسی طرح حضرت عمر" کا مقام ہے۔حضرت عثمان کا اور حضرت علی کا مقام ہے۔حضرت امام حسین اور حسن کا مقام ہے۔یہ درجہ بدرجہ اسی طرح آتا ہے۔پس حفظ مراتب کے لحاظ سے صحابہ کے مقام کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔اگر یہ ہوگا تو ہر قسم کے فسادمٹ جائیں گے اور یہ سب فرق مٹانے کے لئے آخرین میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے اور ہر صحابی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر قرابت دار کا مقام ہمیں بتا کر اُن کی عزت و تکریم قائم فرمائی۔آپ سر الخلافہ میں ایک جگہ فرماتے ہیں۔یہ عربی میں ہے۔اس کا ترجمہ اردو میں یہ ہے کہ: مجھے علم دیا گیا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام صحابہ میں بلند ترین شان اور اعلیٰ مقام رکھتے تھے اور بلا شبہ پہلے خلیفہ تھے اور آپ کے بارہ میں خلافت کی آیات نازل ہوئیں۔(سر الخلافۃ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 337)