خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 719
خطبات مسرور جلد دہم 719 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 نومبر 2012ء آج ہے شاید پاکستان میں اور کچھ اور ملکوں میں بھی ہو۔اس دن ظلموں کی بعض دفعہ انتہا کر دی جاتی ہے بلکہ اس دفعہ تو شیعوں کے مختلف اکٹھ پر یہ حملے شروع ہو چکے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا کہ پہلی تاریخ کو ہی عراق میں شیعوں پر حملہ کیا گیا۔پاکستان میں راولپنڈی، کراچی، کوئٹہ سوات میں یہ حملے کئے گئے۔کل اخبار میں تھا کہ دھماکے ہوئے اور کئی جانیں ضائع ہوئیں۔بلکہ راولپنڈی میں تو پرسوں بھی حملے ہوئے اور کل بھی ہوئے۔کل بھی ان حملوں کی وجہ سے جو شیعوں پر کئے گئے تئیس لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔شیعوں کو موقع ملتا ہے تو وہ اس طرح بدلہ لیتے ہیں۔اُمتِ مسلمہ کی اب عجیب قابل رحم حالت ہے۔یہی مذہبی اختلافات یا کسی بھی قسم کے اختلافات ہیں جو مسلمانوں یا مسلمان حکومتوں میں بھی ایک دوسرے میں خلیج پیدا کرتے چلے جارہے ہیں۔یا بعض ملک ایسے ہیں جن میں ملک کے اندر ہی اقلیتی فرقے کی حکومت ہے تو اکثریتی فرقہ شدید رد عمل دکھا رہا ہے جو گولہ بارود کے استعمال پر منتج ہے۔اقلیتی فرقے کو موقع ملتا ہے تو وہ اکثریت پر حملہ کر دیتا ہے اور اسی بنیاد پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پر یا باغیوں کو کچلنے کے نام پر حکومت بھی معصوم جانیں ضائع کر رہی ہے۔بلا سوچے سمجھے بمباری ہورہی ہے، فائرنگ ہو رہی ہے، گھروں کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔اپنے ہی ملک کے ہزاروں مردوں عورتوں کو موت کے منہ میں اتار دیا جاتا ہے۔شام میں آجکل یہی کچھ ہورہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام مخالف قوتوں کو اپنی من مانی کرنے کی کھلی چھٹی مل گئی۔فلسطینیوں پر اسرائیل کا حملہ مسلمانوں کے اس اختلاف اور ایک نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔کوئی اسلامی ملک نہیں ہے جہاں مذہبی اختلاف یا سیاسی اختلاف کی بنا پر تمام اخلاقی قدروں کو پامال نہ کیا جارہا ہو۔یا جہاں ایک دوسرے کے خلاف ظلم کی بھیانک داستانیں رقم نہ کی جارہی ہوں۔نتیجہ کسی نہ کسی صورت میں ایک دوسرے کی طرف سے ظلم ہوتا ہوا تو ہمیں نظر آ ہی رہا ہے ، بیرونی اسلامی قو تیں بھی اس کے نتیجہ میں اپنے دائرے اسلامی ممالک پر تنگ کرتی چلی جا رہی ہیں۔کاش کہ مسلمانوں کو عقل آجائے اور یہ ایک ہو جائیں۔اپنے اسلاف سے کچھ سبق سیکھیں ، تاریخ ہمیں ان کے متعلق کیا کہتی ہے۔جب ایک اسلام مخالف بڑی طاقت نے ، روم کی حکومت نے حضرت علی اور حضرت معاویہ کے اختلاف کی وجہ سے اسلامی طاقت کو کمزور سمجھتے ہوئے اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے حملہ کرنا چاہا تو حضرت معاویہؓ کے علم میں جب بات آئی تو اُس بادشاہ کو یہ پیغام بھیجا کہ ہمارے آپس کے اختلافات سے فائدہ اُٹھا کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کی کوشش نہ کرنا۔اگر حملہ کیا تو میں حضرت علی کی طرف سے پہلا جرنیل ہوں گا جو تمہارے خلاف لڑے گا۔(ماخوذاز البداية والنهاية از حافظ ابن کثیر جلد 8 صفحه 126 سنة 60ه وهذه ترجمة معاوية رضى الله عنه وذكر شيء من ایامه و دولته و ما ورد فی مناقبه و فضائله دار الکتب العلميه بيروت 2001ء)