خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 710 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 710

خطبات مسرور جلد دہم 710 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء پھر ان کے معلمین ساتھی لکھتے ہیں کہ غیر از جماعت کے بڑے بڑے علماء کے ساتھ تعلقات تھے۔عید وغیرہ کے موقع پر اُن کو تحائف بھجواتے۔بیحد مستعد اور فعال تھے۔شمالی علاقہ جات یعنی گھانا کے شمالی علاقہ جات میں اُن کی وسیع و عریض تبلیغی مہم کا ہی نتیجہ ہے کہ جماعت احمد یہ وہاں پہچانی جاتی ہے۔گھانا کے شمالی علاقہ میں آج سے ہیں سال پہلے یا پچیس سال پہلے جماعت احمدیہ کا نفوذ بڑا مشکل تھا بلکہ ناممکن تھا۔اگا دگا کوئی احمدی ہوتے تھے اور کیونکہ دوسرے مسلمانوں کا وہاں زور ہے اور وہاں کے جو امام ہیں وہ شدید مخالفت کرنے والے تھے۔بلکہ شروع شروع میں جب احمدیت وہاں گئی ہے تو شمال میں ہی یا شمال مغرب میں وہی پہلا علاقہ ہے، جہاں ہمارے احمدیوں پر مقدمے بھی چلے اور جرمانے بھی ہوئے ، قید بھی کئے گئے۔لیکن بہر حال اب وہاں بالکل کا یا پلٹی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مسجدیں بھی بنتی چلی جارہی ہیں اور اُنہی مسلمانوں میں سے بلکہ اُن کے اماموں میں سے لوگ جماعت میں شامل ہو رہے ہیں۔تو یہ کہتے ہیں کہ جماعت وہاں پہچانی جاتی ہے۔یہ حافظ صاحب اکثر لوگوں کو خاموشی کے ساتھ صدقہ و خیرات بھی دیتے رہتے تھے۔آپ کے تعلقات امیر و غریب ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ تھے۔لوگوں کے ذاتی مسائل حل کرنے کی بھر پور کوشش کرتے۔آپ کو لوگوں سے کام لینے کا خوب سلیقہ آتا تھا۔گھانا کے امیر اور دولتمند احمدی احباب کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات تھے اور اُن کی مدد سے شمالی علاقہ جات میں مساجد بنوایا کرتے تھے۔جو اچھے مخیر احمدی ، کھاتے پیتے احمدی ہیں ان کو تحریک کرتے تھے کہ تم پر اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل فرمایا ہے اور اس فضل کا شکرانہ یہی ہے کہ تم ان غریب علاقوں میں مساجد بنا کے دو۔چنانچہ وہاں کے مقامی لوگوں نے بہت ساری چھوٹی چھوٹی مساجد ان علاقوں میں بنائی ہیں۔ایم ٹی اے پر ایک انٹرویو کے دوران آپ نے بتایا کہ وقف اور جماعت کی خدمت ہمارے خون میں ہے۔ہمارے جینز (Genes) میں ہے۔میرے والد صاحب گیمبیا میں پہلے مبلغ تھے جن سے مکرم چوہدری محمد شریف صاحب نے چارج لیا تھا۔پھر میرے والد صاحب کو لائبیریا میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔حافظ جبرائیل سعید صاحب فی الحقیقت خدمت کے جذبے سے معمور تھے۔ذمہ داری کا احساس تھا۔چنانچہ اپنی بیماری کے ایام میں بھی انہوں نے جو آخری خط مجھے لکھا، ہسپتال میں آئی سی یو (ICU) میں داخل تھے ، آئی سی یو میں عموماً لوگوں کو ہوش کوئی نہیں ہوتی۔اس میں انتہائی تکلیف میں لکھا کہ یں آئی سی یو سے انتہائی تکلیف سے یہ خط تحریر کر رہا ہوں اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔حضور کام بہت زیادہ ہیں اور طاقت بالکل نہیں۔یعنی آخر وقت تک فکر تھی تو صرف یہ کہ کس طرح اسلام اور احمد یہ بیت