خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 711 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 711

خطبات مسرور جلد دہم 711 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 نومبر 2012ء کا پیغام ملک کے کونے کونے میں پہنچ جائے اور تمام گھا نین کو میں جلد سے جلد احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی آغوش میں لے آؤں۔آپ نے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان جانے کا واقعہ بھی سنایا جو بڑا دلچسپ ہے۔انہوں نے بتایا کہ گھانا کی جماعت نے فیصلہ کیا کہ کسی بچے کو قرآنِ مجید حفظ کرنے کے لئے پاکستان بھجوایا جائے۔چنانچہ سکول کے بچوں کا جائزہ لیا گیا اور حافظ صاحب کہتے ہیں کہ میرا انتخاب ہو گیا۔میرے والد صاحب نے مجھے پوچھا تو میں نے رضامندی ظاہر کر دی۔اُس وقت محمد بن صالح صاحب ( یہ بھی ہمارے وہاں مبلغ سلسلہ ہیں) اور ابراہیم بن یعقوب صاحب، (یہ بھی گھا نین مبلغ ہیں جو آجکل ٹرینیڈاڈ میں ہیں) یہ پاکستان بھجوائے جارہے تھے تا کہ جامعہ احمدیہ میں پڑھ سکیں۔چنانچہ کہتے ہیں کہ ہم تینوں کا میڈیکل چیک آپ ہوا۔وہ دونوں تو اس میں پاس ہو گئے مگر میرے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ یہ دبلا پتلا ہے اور وزن میں ہلکا پھلکا ہے۔پاکستان کے شدید موسمی حالات ہیں اور یہ شدید گرمی اور شدید سردی برداشت نہیں کر سکے گا۔اس طرح کہتے ہیں کہ میں ان فٹ ہو گیا۔اس کا میرے والد صاحب کو شدید دکھ ہوا اور وہ دعاؤں میں لگ گئے اور ایک دن گھانا کی جماعت کے اس وقت جو امیر جماعت تھے مکرم عطاء اللہ کلیم صاحب، اُن سے حافظ صاحب کے والد کہنے لگے کہ میرا بیٹا ضرور پاکستان جائے گا۔تو امیر صاحب نے پوچھا: وہ کیسے؟ والد صاحب کہنے لگے کہ میں تہجد پڑھ رہا تھا تو میرے کانوں میں بڑی واضح آواز آئی ہے إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا (النبا: 32)۔یعنی متقیوں کے لئے کامیابی ہی ہے۔کہتے ہیں میں تو ان دنوں اپنے بیٹے کے لئے بہت دعائیں کر رہا تھا۔پس یہ خوشخبری میرے بیٹے کے لئے ہے۔بہر حال کہتے ہیں میرے والد صاحب نے میری صحت کی طرف توجہ کی اور مجھے مارجرین کی شیشی لاکر دی اور کچھ اور خوراک وغیرہ بھی کہ میں کھایا کروں۔دو یا تین ہفتوں کے بعد میں دوبارہ ٹیسٹ کے لئے بھجوایا گیا تو ڈاکٹروں نے مجھے میڈیکلی فٹ کر دیا اور یہ لکھا کہ لڑکا مکمل طور پر فٹ ہے، اُسے کوئی مسئلہ نہیں۔کہتے ہیں میرے والد صاحب جب بھی مجھے پاکستان میں خط لکھتے تو لکھا کرتے تھے کہ تمہارا جانا خدا کی تقدیر ہے لہذا سنجیدگی کے ساتھ پڑھائی کی طرف توجہ دو۔اور پھر انہوں نے بھی اپنے والد صاحب کی خواہش کو خوب پورا کیا۔اپنے پیچھے انہوں نے اپنی اہلیہ حنا سعید صاحبہ اور دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں، اُن کا نام صبہ ارباب اور صبا کو جو اور منیر الھادی اور تہمینہ ہیں۔ان کی کوشش یہی تھی کہ بچے بھی دینی اور دنیاوی تعلیم میں آگے آئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا جماعت کے ساتھ تعلق بھی مضبوط ہے،۔سارے بچے دینی تعلیم میں بھی آگے ہیں اور دنیاوی تعلیم میں